اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

پرویز رشید نے سب کچھ وزیر اعظم کے کہنے پر کیا! دعوے نے تہلکہ مچا دیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ اہم ترین خبر کے لیک ہونے پر صرف وفاقی وزیرِ اطلاعات سے استعفیٰ نہیں، بلکہ اور لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جو اس میں ملوث تھے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ‘کبھی بھی ایک درباری اپنے بادشاہ کے حکم کے بغیر کام نہیں کرتا، لہذا پرویز رشید نے جو کچھ بھی کیا وہ وزیراعظم نواز شریف کے ہی کہنے پر کیا’۔انھوں نے کہا کہ بظاہر تو خبر لیک ہونے کی براہ راست ذمہ داری وزیراعظم پر آتی ہے، لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شریف خاندان کے کچھ لوگ یا پھر وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اس کام کے پیچھے ہوں’۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اصل میں یہ کوشش کی ہے کہ شاید ایک وزیر کے استعفے سے دباؤ کی کیفیت میں کچھ کمی آسکے، لیکن جس طرح پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ کارروائی اور لوگوں کے خلاف بھی ہونی چاہیے جوکہ اس کا حصہ تھے۔تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ جس خبر کو لیک کیا گیا وہ بھی سچائی کے برعکس اور من گھڑت تھی، کیونکہ ایسا کچھ اْس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہوا ہی نہیں’۔انھوں نے کہا کہ پرویز رشید کے بارے میں تو خود حکومت تسلیم کر چکی ہے، اب اگر چوہدری نثار بھی اس میں ملوث تھے تو پھر ان کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاؤں تو اس وقت ہی پھسل گئے تھے جب رواں سال اپریل میں پاناما لیکس کے انکشافات سامنے آئے تھے اور اسی لیے گذشتہ 7 ماہ سے یہ تحقیقات کروانے سے گریزاں ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘موجودہ حالات میں خود وزیراعظم نواز شریف پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں، کیونکہ جس طرح کی خبر کو لیک کروایا گیا اْس سے صرف ایک ادارے کی ہی نہیں، بلکہ ملک و قوم کی بھی بدنامی ہوئی’۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی ابتدائی تحقیقات کے بعد گذشتہ روز وزیر اعظم نواز شریف نے کوتاہی برتنے پر پرویز رشید سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس لے لیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ڈان میں چھپنے والی خبر کی آزادانہ تحقیقات کے لیے پرویز رشید سے وزارت واپس لی گئی۔سرکاری اعلامیے کے مطابق حکومت کی جانب سے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے سینئر افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی قائم کی جارہی ہے جو الزامات اور اس کی وجوہات جبکہ اس کے ذمہ داروں کا تعین بھی کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…