اسلام آباد(ایکسکلوژو رپورٹ)نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ نگار نے بڑا دعویٰ کر دیا۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار نے کہا کہ افواج پاکستان کا نیا سپہ سالار کون ہوگا؟اس بارے میں فیصلہ ہوگیاہے، نام کا اعلان اگلے چند ہفتوں کے دوران کسی بھی وقت متوقع ہے،نئے چیئر مین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی تعینات بھی آرمی چیف کے ساتھ ہی ہوگی۔ سینئر اینکر پرسن کامران خان کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئے آرمی چیف کے نام کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے جس کا اعلان اگلے چند ہفتوں کے دوران کسی بھی وقت متوقع ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے اپنے قریبی ساتھیوں سے تفصیلی مشاورت بھی کی،ساتھیوں نے انہیں موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مشورہ دیا تاہم نوازشریف کا موقف تھا کہ وہ موجودہ آرمی چیف کے مداح ہیں لیکن افواج پاکستان میں ترقیاں اور تقرریاں روٹین کے مطابق ہونی چاہئیں۔ کامران خان نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اگر کوئی انتہائی غیر معمولی واقعہ نہ ہوا تو جنرل راحیل شریف انتیس نومبر کو اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود بھی اسی روز ریٹائر ہونگے اور دونوں بڑے عہدوں پر نئی تعیناتیاں ایک ساتھ ہی کی جائیں گی۔ اس حوالے سے اگلے پچاس روز کے دوران دو لیفٹیننٹ جنرلز کو فور سٹار جنرلز کے عہدوں پر ترقی بھی دے دی جائے گی ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ پاک فوج کی ہائی کمان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر کو کور کمانڈر کراچی کی ذمہ داریاں تفویض کئے جانے کے امکانات ہیں۔نجی اخبار کے مطابق کے مطابق جنرل رضوان 22 ستمبر 2014ء کو آئی ایس آئی کے سربراہ بنے تھے۔ اس سے پہلے بطور میجر جنرل وہ ڈی جی رینجرز سندھ کے عہدے پر تعینات رہے اور کراچی آپریشن کو لیڈ کیا تھا۔ وہ شمالی وزیرستان میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اس وجہ سے ان کو کور کمانڈر کراچی تعینات کئے جانے کا قوی امکان ہے۔ جبکہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو ڈی جی آئی ایس آئی لگائے جانے کا امکان ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میجر جنرل احمد محمود حیات کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر ترقی دے کر ڈی جی آئی ایس آئی لگادیا جائے۔
نیا آرمی چیف کون ہوگا؟ فیصلہ ہو گیا!! سینئر تجزیہ نگار نے دھماکے دار دعویٰ کر دیا
7
اکتوبر 2016
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں