ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نیوکلیئر سپلائر گروپ میں عدم شمولیت،پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز،اہم ملک سے جوہری معاہدہ کرلیا

datetime 5  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور بیلاروس نے جوہری توانائی کے شعبہ میں تعاون کو فروغ اور کسی تیسرے ملک کی شمولیت سے سہ فریقی تجارتی نظام وضع کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔بدھ کو وزیر اعظم محمد نواز شریف اور بیلا ر وس کے صدرا لیگزینڈر لوکا شینکو کے درمیان ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بیلاروس اور پاکستان پرامن ذرائع کے لئے جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کسی تیسرے ملک کو شامل کر کے اپنے تجارتی افق کو وسعت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ اپنی بات چیت کو نہایت تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت گزشتہ سال پاکستان کے ان کے دورہ کے دوران رکھی جانے والی دوستی کی بنیاد کو مزید تقویت دینے پر مرکوز رہی۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس پاکستان کو اپنے ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات میں درپیش مشکل وقت سے آگاہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’’ڈیئر شریف آپ بیلاروس کے موقف سے آگاہ ہیں جیسا کہ وہ مسئلہ کے پرامن حل کا خواہاں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف نے صنعت اور زراعت کے شعبہ میں تعاون پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف کے وفود بہت جلد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کرینگے۔ انہوں نے بینکاری کے شعبے میں باہمی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ صدر الیگزینڈر لوکا شنکو کا دورہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان کثیرجہتی تعلقات کو نئی قوت بخشے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صدر لوکاشینکو کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی بات چیت کی اور مختلف امور پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر لوکا شینکو نے تجویز دی کہ پاکستان اس کی تعمیراتی کمپنیوں کی مہارت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات کو تقویت دینے کیلئے براہ راست فضائی روابط استوار کرنے کے بارے میں بھی مفاہمت پائی گئی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم محمد نوازشریف کو بیلاروس کے دورے کی دعوت دی۔ بعد ازاں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکا شینکو اور وزیراعظم محمد نوازشریف کے درمیان مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں دو طرفہ تعلقات میں تعمیری پیش رفت کو نوٹ کرتے ہوئے بیلاروس اور پاکستان کے باہمی مفاد میں ان روابط کو تقویت دینے پر زور دیا گیا۔ مذاکرات میں دونوں اطراف نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت کو مزید آگے بڑھانے ، بین الپارلیمانی تعلقات، تجارتی اور اقتصادی روابط کو تقویت دینے اور دو طرفہ تعاون کیلئے قانونی ڈھانچہ کو وسعت دینے پر زور دیا۔ بیلاروس کے صدر نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ گائیڈ لائنز اور کنٹرول فہرستوں کی پاکستان کی طرف سے پیروی، جوہری عدم پھیلاؤسے وابستگی، جوہری تحفظ و سلامتی اور نیوکلیئر سپلائر گروپ، کنٹرول فہرستوں سے متعلق سپلائی آئٹمز کے حوالے سے پاکستان کی استعداد کو سراہا۔ بیلاروس نے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں نان این پی ٹی ریاستوں کی رکنیت کے معاملے پر غیر امتیازی اپروچ کی اہمیت کو اجاگر کیا جو اتفاق رائے سے اس کے تصفیہ کا باعث ہو۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بات چیت کے دوران بیلاروس کے صدر اور وزیراعظم نے دو طرفہ تعلقات کے تمام تر امور کا جامع جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سماجی، انسانی ہمدردی اور دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ اور تقویت دینے کے باہمی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے انٹرنیشنل ایجنڈا پر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور بیلاروس نے اپنے اپنے پارلیمانی فرینڈ شپ گروپوں کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دو طرفہ تعاون کا اہم جزو قرار دیا۔ دونوں اطراف نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر زور دیا جو تمام رکن ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ دونوں اطراف نے زرعی صنعتی تعاون، انسداد جرائم، تعلیم، پوسٹل، کسٹمز اور بینکاری اشتراک کار کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے سے متعلق متعدد دستاویز پر دستخط کی اہمیت کو نوٹ کیا۔ دونوں ممالک نے پاک بھارت تعلقات کی موجودہ صورتحال اور جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعہ سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل کو پرامن ذرائع اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ دونوں اطراف نے افغانستان میں افغان عوام اور افغان قیادت کے حامل امن اور مفاہمتی عمل کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…