جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اب جارحانہ انداز اپنانا ہوگا!!! وزیر اعظم کا زبردست اقدام نواز شریف نے بڑا سنا دیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیو یارک(آئی این پی)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کی ہدایت کی روشنی میں ’’مشن کشمیر ‘‘ کے نام سے جارحانہ سفارتی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بلوچستان کے معاملے کو اچھالنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر بھارتی مداخلت اور اس کا اعتراف عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جرم ہے ۔ عالمی برادری بھارت کے سنگین جرائم کا فوری نوٹس لے ۔وہ گزشتہ روز یہاں کونی آئی لینڈ میں نارتھ امریکا میں آباد کشمیری کمیونٹی کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک بڑی استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ سردار محمد مسعود خان نے کہا کہ بھارت حکمران اندرا ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد پڑوسی ممالک کو اندر سے کمزور کر کے ان پر غلبہ حاصل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اڑی واقعہ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔ حالانکہ بھارتی حکمران نے ہمیشہ اہم مواقع پر ایسی ورداتیں کروا کر الزام پاکستان ہر لگایا ہے ۔ جب بھی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو اس کی دھول تک نہیں بیٹھتی کہ بھارتی حکمران الزام پاکستان پر عائد کر دیتے ہیں۔ جس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ بغیر تحقیقات کے الزام لگانا بھارت کا وطیرہ ہے ۔
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہندوستان کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ میں نے او آئی سی کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام کشمیری اب آزادی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں گے ۔ اب ہم احتجاج ، ناکامی اور مایوسی کی سیاست نہیں کریں گے ۔ میں نے اس حوالے سے ایک چھ نکاتی ایجنڈا پیش کر دیا ہے ۔ ہمیں سب سے پہلے خود اپنی صفوں کو منظم کرنا ہو گا ۔ اقوام متحدہ کا رکن بننے والے پیشتر ممالک نے طویل جنگیں لڑ کر اور بیش بہا قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں آباد کشمیری حضرات اپنے اثر و سوخ کو استعمال کریں ۔ سردار محمد مسعود خان نے کہا کہ امریکا میں مقیم آپ حضرات یہاں کے ووٹر ہیں۔ اس لیے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔ مشترکہ مفادات کے لیے مل کر کام کیا جائے ۔ ناکامی کی سیاست چھوڑ کر کامیابی کی سیاست کریں آزاد کشمیر میں گذ گورننس اور تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ اس موقع پر حریت رہنما خواجہ اشتیاق حمید ، قونصل جنرل پاکستان راجہ علی اعجاز ، راجہ محمد حلیم ، سردر سوار خان ، سردار امتیاز گڑالوی ، سردار زاہد حسین ، سردار آصف حفیظ ، سردار علی انور ، قاضی مشتاق ، سردار الطاف ، سردار شمیم اختر ، سردار حلیم خان ، چوہدری ظہوراختر ، سردار امتیاز خان ، راجہ تاج خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ استقبالیہ تقریب میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی ۔ مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر سردار محمد مسعود خان ایک اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ان کا انتخاب مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ مقررین نے صدر آزاد کشمیر کا خیر مقدم کیا اور انہیں عہدہ صدارت پر فائز ہونے پر مبارکباد دی ۔ اور امید ظاہر کی کہ وہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی ، گذ گورننس اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا بھرپور کردارا ادا کریں گے اور قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…