جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

28 مئی‘یوم تکبیر ‘ نام کا خالق کون؟ آج کس حال میں ہے؟ جان کر رو پڑیں گے

datetime 28  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) 28 مئی 1998 ءکا دن پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ 1998 ءمیں خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کی جانب سے چاغی کے مقام پر 5 ایٹمی دھماکے کئے گئے تھے۔ اس سے قبل پاکستان کا روایتی حریف بھارت ایٹمی دھماکے کرکے دفاعی لحاظ سے اپنی برتری کو ثابت کر چکا تھا۔ مجبوراََ پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلئے ایٹم بم بنانا پڑا ۔ایٹمی دھماکوں سے قبل پاکستان کوعالمی سطح پر شدید دباﺅ کا سامنا تھا۔ خصوصاََ امریکی چاہتے تھے کہ پاکستان کسی صورت میں ایٹمی دھماکے نہ کرے۔ پاکستانی ایٹم بم کی تخلیق کا سہرا پاکستان کے مایہ ناز سیاستدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے سر جاتا ہے۔ 28 مئی1998 ءکو جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو اس تاریخی دن کا نام تجویز کرنے کیلئے عوام الناس کی رائے طلب کی گئی۔ ہزاروں پاکستانیوں نے اس ضمن میں مختلف نام تجویز کئے گئے‘ حکومت وقت کی جانب سے ان ناموں پر باریک بینی سے غور کیا گیا اور ”یوم تکبیر“ کا ان اس دن کیلئے فائنل کر لیا گیا۔ یوم تکبیر کا نام رکھنے کا اعزاز پاکستان کے ایک ایسے بیٹے کے حصے میں آیا جو نہ ہی کسی بڑی سیاسی شخصیت کا بیٹا تھاور نہ ہی مالی طور پر مستحکم، ایٹمی دھماکوں کے اس تاریخی دن کا نام تجویز کرنے والے نوجوان کا نام ”مجتبیٰ رفیق“ ہے۔ مجتبیٰ رفیق نارتھ ناظم آباد ، کراچی کا رہائشی ہے ۔ یوم تکبیر نام تجویز کرنے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے مجتبیٰ رفیق کو سند اعزاز سے نوازا گیا۔ جو مجتبیٰ رفیق کیلئے واقعتا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ مجتبیٰ رفیق کا نام یوم تکبیر کے ساتھ ہی پاکستان کی تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا گیا۔ مجتبیٰ رفیق کی تعلیمی قابلیت ایم بی اے ہے۔یوم تکبیر نام کا خالق مجتبیٰ رفیق اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے باوجود آج کل کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ریڑھی پر پھل فروٹ فروخت کرتا نظر آ رہا ہے جو کہ ہم سب کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بے روزگاری سے تنگ مجتبیٰ رفیق نے روزگار کے حصول کیلئے متعدد بار پاکستانی حکومتوں سے درخواست کی۔28مئی 1998 ءاس وقت بھی ملک میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جماعت اقتدار میں ہے۔ مجتبیٰ رفیق نے باعزت روزگار کے حصول کیلئے میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف سمیت اعلیٰ مسلم لیگی عہدیداروں کی توجہ بھی اس جانب وقتاََ فوقتاََ مبذول کروائی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ یوم تکبیر کا خالق آج ایٹمی پاکستان کی سڑکوں پر ایم بی اے کی ڈگری کے ساتھ محنت مزدوری کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس حوالے سے آج 28مئی ”یوم تکبیر“ پر جب مجتبیٰ رفیق کا موقف لیا گیا تو وہ فون پر رو پڑے ۔ مجتبیٰ رفیق کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے ملک میں یوم تکبیر ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا جبکہ مجھے یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ مجتبیٰ رفیق نے کہا کہ میری وزیر اعظم نواز شریف سے درخواست ہے کہ یوم تکبیر کے صلے میں نہ سہی مجھے میری تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر سرکاری ملازمت دی جائے۔ میں اس سے قبل کئی سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواستیں دے چکا ہوں مگر میرے پاس نہ کوئی سفارش ہے اور نہ دینے کیلئے رشوت۔ میرا مستقبل کیا ہوگا ؟ کیا میں اسی طرح پھلوں کی ریڑھی لگاتا رہوں گا؟ مجتبیٰ رفیق کا یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

 

sanad-mujtaba

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…