جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

28 مئی‘یوم تکبیر ‘ نام کا خالق کون؟ آج کس حال میں ہے؟ جان کر رو پڑیں گے

datetime 28  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) 28 مئی 1998 ءکا دن پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ 1998 ءمیں خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کی جانب سے چاغی کے مقام پر 5 ایٹمی دھماکے کئے گئے تھے۔ اس سے قبل پاکستان کا روایتی حریف بھارت ایٹمی دھماکے کرکے دفاعی لحاظ سے اپنی برتری کو ثابت کر چکا تھا۔ مجبوراََ پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلئے ایٹم بم بنانا پڑا ۔ایٹمی دھماکوں سے قبل پاکستان کوعالمی سطح پر شدید دباﺅ کا سامنا تھا۔ خصوصاََ امریکی چاہتے تھے کہ پاکستان کسی صورت میں ایٹمی دھماکے نہ کرے۔ پاکستانی ایٹم بم کی تخلیق کا سہرا پاکستان کے مایہ ناز سیاستدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے سر جاتا ہے۔ 28 مئی1998 ءکو جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو اس تاریخی دن کا نام تجویز کرنے کیلئے عوام الناس کی رائے طلب کی گئی۔ ہزاروں پاکستانیوں نے اس ضمن میں مختلف نام تجویز کئے گئے‘ حکومت وقت کی جانب سے ان ناموں پر باریک بینی سے غور کیا گیا اور ”یوم تکبیر“ کا ان اس دن کیلئے فائنل کر لیا گیا۔ یوم تکبیر کا نام رکھنے کا اعزاز پاکستان کے ایک ایسے بیٹے کے حصے میں آیا جو نہ ہی کسی بڑی سیاسی شخصیت کا بیٹا تھاور نہ ہی مالی طور پر مستحکم، ایٹمی دھماکوں کے اس تاریخی دن کا نام تجویز کرنے والے نوجوان کا نام ”مجتبیٰ رفیق“ ہے۔ مجتبیٰ رفیق نارتھ ناظم آباد ، کراچی کا رہائشی ہے ۔ یوم تکبیر نام تجویز کرنے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے مجتبیٰ رفیق کو سند اعزاز سے نوازا گیا۔ جو مجتبیٰ رفیق کیلئے واقعتا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ مجتبیٰ رفیق کا نام یوم تکبیر کے ساتھ ہی پاکستان کی تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا گیا۔ مجتبیٰ رفیق کی تعلیمی قابلیت ایم بی اے ہے۔یوم تکبیر نام کا خالق مجتبیٰ رفیق اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے باوجود آج کل کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ریڑھی پر پھل فروٹ فروخت کرتا نظر آ رہا ہے جو کہ ہم سب کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بے روزگاری سے تنگ مجتبیٰ رفیق نے روزگار کے حصول کیلئے متعدد بار پاکستانی حکومتوں سے درخواست کی۔28مئی 1998 ءاس وقت بھی ملک میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جماعت اقتدار میں ہے۔ مجتبیٰ رفیق نے باعزت روزگار کے حصول کیلئے میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف سمیت اعلیٰ مسلم لیگی عہدیداروں کی توجہ بھی اس جانب وقتاََ فوقتاََ مبذول کروائی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ یوم تکبیر کا خالق آج ایٹمی پاکستان کی سڑکوں پر ایم بی اے کی ڈگری کے ساتھ محنت مزدوری کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس حوالے سے آج 28مئی ”یوم تکبیر“ پر جب مجتبیٰ رفیق کا موقف لیا گیا تو وہ فون پر رو پڑے ۔ مجتبیٰ رفیق کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے ملک میں یوم تکبیر ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا جبکہ مجھے یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ مجتبیٰ رفیق نے کہا کہ میری وزیر اعظم نواز شریف سے درخواست ہے کہ یوم تکبیر کے صلے میں نہ سہی مجھے میری تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر سرکاری ملازمت دی جائے۔ میں اس سے قبل کئی سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواستیں دے چکا ہوں مگر میرے پاس نہ کوئی سفارش ہے اور نہ دینے کیلئے رشوت۔ میرا مستقبل کیا ہوگا ؟ کیا میں اسی طرح پھلوں کی ریڑھی لگاتا رہوں گا؟ مجتبیٰ رفیق کا یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

 

sanad-mujtaba

 



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…