جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

پاکستان اور ایران کا توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے ،دو سرحدی کراسنگ پوائنٹ بنانے پر اتفاق

datetime 25  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پاکستان اور ایران نے توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے ،دونوں ممالک کے درمیان دو سرحدی کراسنگ پوائنٹ بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہونگے ، باہمی تعلقات سے دونوں ممالک کے عوام کو بھی فائدہ ملے گا، ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے دورے پر انتہائی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں قدرتی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔جمعہ کو ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ایرانی صدر کو دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہتا ہوں اور اس موقع پر پوری قوم کو جشن نوروز کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کہ گزشتہ تین برس میں ایرانی سربراہ سے میری یہ تیسری ملاقات ہے توقع ہے ایرانی قوم صدر حسن روحانی کی قیادت میں ترقی کریگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں ۔ باہمی تعاون کو توانائی سمیت تمام شعبوں میں فروغ دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ہم نے ہر شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دو سرحدی کراسنگ پوائنٹ بنائے جائیں گے ۔ سرحدی رابطوں سے عوامی اقتصادی اور تجارتی روابط کو فروغ ملے گا ۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے بتایا کہ ایرانی صدر کی آمد پر پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں یقین ہے کہ دو طرفہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جائیں گے ۔ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات سے پاکستان اور ایران کے عوام کو بھی فائدہ ملے گا۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ میں اپنے دورے کے نتائج سے بہت مطمئن ہوں دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں میری پاکستانی قیادت کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت ہوئی مذاکرا ت میں دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں قدرتی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو بہت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں ۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ گوادر اور چابہار بندرگاہوں کو باہمی رابطوں کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستانی کی سلامتی ہماری سلامتی اور ایران کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے۔ اس سے قبل ایرانی صدر کے اعزا ز میں وزیر اعظم ہاﺅس میں ایک باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیااس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ایرانی صدر اور وزیراعظم نوازشریف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا جس کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیراعظم محمد نوازشریف سے اپنے وفد کو متعارف کرایا جس میں وزراءاور ممتاز کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے بھی مہمان صدر سے اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف کرایابعد ازاں وزیراعظم نوازشریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے ون ٹو ون ملاقات کی جس کے بعد پاکستان اور اور ایران کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات ‘ علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے عالمی مسائل کے تمام امور پر بات چیت کی گئی۔ مذاکرات میں وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ مشیر خارجہ سرتاج عزیزوزیرخزانہ اسحاق ڈار ¾وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف ¾ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی ¾ وزیر تجارت خرم دستگیرخان ¾وزیر ماحولیاتی تبدیلی زاہد حامد اور وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی بھی شریک تھے۔مذاکرات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی ۔قبل ازیں ایرانی صدر کا پاکستان پہنچنے پر نور خان ائیر بیس پر شاندار استقبال کیا گیا اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے ، تینوں مسلح افواج کے دستوں ایرانی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ایئر پور ٹ پہنچنے پر انہیں 21توپوں کی سلامی دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…