بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

مشترکہ مفاداتی کونسل کا اجلاس ، وزیراعلیٰ سندھ کی نئے ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت

datetime 25  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) وزیراعظم پاکستان نوازشریف کی زیر صدارت جمعہ کواسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ مفاداتی کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے نئے ڈیموں کی تعمیر کی سخت مخالفت کی اور وفاقی حکومت پر آدم شماری کرانے کیلئے زور دیا۔ وزیراعلیٰ ہاﺅس سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزارت برائے پانی و بجلی نے دس سالہ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان پیش کیا جس میں سیلابی پانی کو جمع کرنے کیلئے کالاباغ ڈیم اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیرکی بھرپور حمایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس پر اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اور خیبرپختونخواہ کی حکومتیں اور اسمبلیاں پہلے ہی کالاباغ ڈیم کو رد کر چکی ہیں،یہ فلڈ پلان بیورو کریسی کا بنایا ہوا لگتا ہے، ورنہ بصورت دیگر وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی،سیاستدان ہونے کے ناطے اسے سی سی آئی کے اجلاس میں لانے کی منظوری نہ دیتے۔انہوں نے کہا کہ 1991کے پانی معاہدے میں کہیں بھی کسی نئے ڈیم بنانے کا کوئی ذکر تک نہیں۔ وزارت پانی و بجلی نے اجلاس میں یہ دلائل دیئے کہ ملک میں مسلسل سیلاب آ رہے ہیں اور سیلابی پانی کو جمع کرنے کا واحد طریقہ کالاباغ ڈیم اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیر کے منصوبے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2010ءسیلاب اور2011کی بارشوں کے علاوہ ملک میں گذشتہ پانچ سالوں میں کوئی بڑا سیلاب نہیں آیا، حتیٰ کہ تھرپارکر سمیت صوبے مختلف اضلاع میں قحط سالی جیسی صورتحال ہے۔سندھ حکومت نے کاچھو،کوہستان اور دوسرے ریگستانی علاقوں میں رہنے والے افرادکیلئے گندم اور کھانے پینے کی دیگر اشیاءفراہم کرنے کیلئے پانچ ارب روپے خرچ کئے ہیں اورایسی صورتحال میں محض سیلاب کے مفروضے پرنئے ڈیموں کی تعمیرکی اجازت کس طرح دی جا سکتی ہے۔اس پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے پالیسی فیصلہ لیتے ہوئے کالاباغ ڈیم اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیر کی تجاویز کوملتوی کردیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے چوتھے قومی سیلابی تحفظ کے پلان کے بارے میںبات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین پلان کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈنگ کی گئی جب کے اس چوتھے پلان کیلئے صوبائی حکومتوںکو 177ارب روپوں کے اخراجات برداشت کرنے کیلئے کہا گیا ہے، چونکہ یہ ایک قومی پلان ہے اس لئے مرکز کو ہی اس کے اخراجات اٹھانے چاہیں۔وزیراعظم پاکستان نے پالیسی فیصلہ لیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کو نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان کے حوالے سے چاروں وزراءاعلیٰ کوبریفنگ دینے کی ہدایت کی جس کے بعد اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں بحث کی جائے گی۔آدمشماری کرانے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوبے میں سب سے پہلے آدمشماری کرائی جائے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ آرمی چیف نے آدمشماری کیلئے 3لاکھ سے زائد جوانوں کے بندوبست سے معذرت کی ہے۔اسی وجہ سے آدمشماری کچھ وقت بعد کرائی جائے گی۔اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ کم سے کم آدمشماری کے مہینے اور تاریخ کا اعلان ہی کردیں ،جس پر وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ آدمشماری 2016میں ہی کرائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…