منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف ملازمین کا احتجاج, پی آئی اے فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بند

datetime 3  فروری‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری کے خلاف ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے پروازوں کا شیڈول متاثر اور آپریشن کی معطلی سے پھل اور سبزیوں کی بر آمدات پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز، ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سینئر رکن اسلم پکھالی کے مطابق پاکستان سے یومیہ بنیادوں پر سبزیاں اور پھل فضائی راستے سے یورپ، برطانیہ، خلیجی ملکوں کو ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں، ملک کی مجموعی بر آمدات کے 20فیصد کے مساوی پھل اور سبزیاں فضائی راستے سے بر آمد کی جاتی ہیں جن میں پی آئی اے کا شیئر 30سے 40 فیصد اور غیرملکی ایئرلائنز کا شیئر 60فیصد تک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نج کاری کے خلاف جاری احتجاج کی وجہ سے فلائٹوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہورہا ہے، مختلف شہروں سے پروازیں منسوخ ہورہی ہیں، اسی طرح احتجاج کے دوران آپریشن معطل ہونے سے ملکی بر آمدات خطرے میں پڑ گئی ہیں جن سے یومیہ بنیادوں پر ایکسپورٹ میں 30سے 40لاکھ روپے تک کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی پھل اور سبزیوں کے زیادہ تر خریدار بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز اور سپر مارکیٹ کی چینز ہیں جن کے آرڈرز کی بروقت ترسیل نہ کی جائے تو آرڈرز تجارتی حریف ملکوں بالخصوص بھارت کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھل اور سبزیاں جلد تلف ہونے کی وجہ سے فوری طور پر کارگو کرنا ضروری ہے اور ایئرپورٹ پر چند گھنٹوں کی تاخیر سے بھی درجہ حرارت گرنے سے مال کا معیار متاثر ہوتا ہے، پاکستان سے زیادہ تر ہری سبزیاں مرچ، لوکی، بھنڈی، مٹر، اروی ایکسپورٹ کی جاتی ہے جبکہ پھلوں میں فی الوقت زیادہ تر بیر، امرود، چیکو اور شریفہ ایکسپورٹ کیا جارہا ہے جو فلائٹوں کے شیڈول متاثر ہونے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر ہی خراب ہورہا ہے۔پھل اور سبزیوں کے دیگر ایکسپورٹرز نے بتایا کہ پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے 20 ٹن سے زائد کنسائمنٹس ایکسپورٹ نہ ہوسکے جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، یہ کنسائنمٹس دمام، دوحہ، جدہ، ریاض اور بحرین کو ایکسپورٹ کی جا رہی تھیں۔ ایکسپورٹرز کے مطابق پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج کے دوران تشدد کی وجہ سے معاملات بگڑ رہے ہیں، مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے اور تشدد سے گریز کیا جائے، اس صورتحال کا فائدہ غیرملکی ایئرلائنز کو پہنچ رہا ہے اور گنجائش کی کمی کو جواز بناکر ایئرلائنز اپنے فریٹ میں اضافے کا حربہ استعمال کرتی ہیں جس سے بر آمدی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور معمولی مارجن پر ایکسپورٹ کرنے والوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…