جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف ملازمین کا احتجاج, پی آئی اے فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بند

datetime 3  فروری‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری کے خلاف ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے پروازوں کا شیڈول متاثر اور آپریشن کی معطلی سے پھل اور سبزیوں کی بر آمدات پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز، ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سینئر رکن اسلم پکھالی کے مطابق پاکستان سے یومیہ بنیادوں پر سبزیاں اور پھل فضائی راستے سے یورپ، برطانیہ، خلیجی ملکوں کو ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں، ملک کی مجموعی بر آمدات کے 20فیصد کے مساوی پھل اور سبزیاں فضائی راستے سے بر آمد کی جاتی ہیں جن میں پی آئی اے کا شیئر 30سے 40 فیصد اور غیرملکی ایئرلائنز کا شیئر 60فیصد تک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نج کاری کے خلاف جاری احتجاج کی وجہ سے فلائٹوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہورہا ہے، مختلف شہروں سے پروازیں منسوخ ہورہی ہیں، اسی طرح احتجاج کے دوران آپریشن معطل ہونے سے ملکی بر آمدات خطرے میں پڑ گئی ہیں جن سے یومیہ بنیادوں پر ایکسپورٹ میں 30سے 40لاکھ روپے تک کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی پھل اور سبزیوں کے زیادہ تر خریدار بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز اور سپر مارکیٹ کی چینز ہیں جن کے آرڈرز کی بروقت ترسیل نہ کی جائے تو آرڈرز تجارتی حریف ملکوں بالخصوص بھارت کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھل اور سبزیاں جلد تلف ہونے کی وجہ سے فوری طور پر کارگو کرنا ضروری ہے اور ایئرپورٹ پر چند گھنٹوں کی تاخیر سے بھی درجہ حرارت گرنے سے مال کا معیار متاثر ہوتا ہے، پاکستان سے زیادہ تر ہری سبزیاں مرچ، لوکی، بھنڈی، مٹر، اروی ایکسپورٹ کی جاتی ہے جبکہ پھلوں میں فی الوقت زیادہ تر بیر، امرود، چیکو اور شریفہ ایکسپورٹ کیا جارہا ہے جو فلائٹوں کے شیڈول متاثر ہونے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر ہی خراب ہورہا ہے۔پھل اور سبزیوں کے دیگر ایکسپورٹرز نے بتایا کہ پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے 20 ٹن سے زائد کنسائمنٹس ایکسپورٹ نہ ہوسکے جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، یہ کنسائنمٹس دمام، دوحہ، جدہ، ریاض اور بحرین کو ایکسپورٹ کی جا رہی تھیں۔ ایکسپورٹرز کے مطابق پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج کے دوران تشدد کی وجہ سے معاملات بگڑ رہے ہیں، مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے اور تشدد سے گریز کیا جائے، اس صورتحال کا فائدہ غیرملکی ایئرلائنز کو پہنچ رہا ہے اور گنجائش کی کمی کو جواز بناکر ایئرلائنز اپنے فریٹ میں اضافے کا حربہ استعمال کرتی ہیں جس سے بر آمدی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور معمولی مارجن پر ایکسپورٹ کرنے والوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…