ہم دنیا کی بہادر ترین قوم ہیں

  جمعہ‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2019  |  0:01

شان بین  مشہور برطانوی اداکار ہے‘ آپ نے اگر گیم آف تھرونز‘ لارڈ آف دی رنگز اور گولڈن آئی دیکھی ہو تو پھر آپ شان بین سے اچھی طرح واقف ہوں گے‘یہ بے شمار فلموں اور سیریلز میں اداکاری کے شان دارجوہر دکھا چکا ہے اور لاتعداد ایوارڈز حاصل کر چکا ہے لیکن یہ اداکاری کی آفاقی صلاحیتوں کے باوجود آج کل ڈپریشن کے خوف ناک دور سے گزر رہا ہے‘ کیوں؟ یہ کیوں بہت اہم ہے‘ شان بین کے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کا خیال ہے موت کا سین اس سے بہتر کوئی اداکار نہیں کر سکتا چناں چہ یہ جس فلم یا سیریل کا حصہ بنتا ہے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز اس میں اسے مار دیتے ہیں یوں یہ فلموں اور سیریلز میں اب تک 23 مرتبہ مر


چکا ہے۔

فلم بینوں اورتماشائیوں نے اسے اتنی بار مرتے ہوئے دیکھا کہ یہ اب اپنے دلوں میں اس کے لیے ہمدردی محسوس کرتے ہیں لہٰذا اس کے فینز نے 2014ءمیں ”ڈونٹ کل شان بین“ کے ٹائٹل سے میڈیا مہم چلانا شروع کر دی‘ یہ خود بھی مر مر کر اتنا تنگ آ چکا ہے کہ اس نے آئندہ کسی فلم یا سیریل میں مرنے کا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا‘ شان بین کا دعویٰ ہے‘میں جب بھی سکرین پر ظاہر ہوتا ہوں تو دیکھنے والے فوراً کہتے ہیں ”یہ بے چارہ ہے‘ اس نے جلد مر جانا ہے“ فلم میں میری موت اتنی لازم ہو چکی ہے جتنی موسیقی یا مکالمے ہوتے ہیں چناں چہ میں نے اب مرنے سے انکار کر دیا ہے‘ میں اب کوئی ایسی فلم یا ڈرامہ نہیں کروں گا جس میں مجھے مرنے کا سین دیا جائے گا‘ میں صرف اور صرف زندہ کردار ادا کروں گا‘ شان بین آخری بار گیم آف تھرونز میں مارا گیا تھا‘ یہ نیڈ سٹارک کا کردار ادا کر رہا تھا‘ نیڈ سٹارک کا سر قلم کر دیا گیا تھا اور یہ سین اتنا خوف ناک تھا کہ دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے اور شان بین کی چاروں بیگمات نے باقاعدہ چیخیں مار کر رونا شروع کر دیا تھا‘ لوگ آج بھی شان بین کا یہ اختتام یاد کرتے ہیں تو ان کے دلوں کی دھڑکنیں تھم جاتی ہیں۔ مجھے اکثر اوقات اپنا پاکستان شان بین لگتا ہے‘ ہم مر مر اور مار کھا کھا کر تنگ آ چکے ہیں مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ رک نہیں رہا۔

میرے والد کا مارچ میں انتقال ہوا تھا‘ اباجی نے بڑی شان دار زندگی گزاری‘ 84 سال کی عمر میںرحلت ہوئی‘ وہ آخر میں بار بار کہتے تھے ”مجھے پوری زندگی سکھ کا سانس نہیں ملا‘ میں اس ملک میں مسافر کی طرح رہا‘دل میں ہر وقت انجانے خوف رہے‘ مجھے روز یہ محسوس ہوتا رہا میرے یا میرے خاندان کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے‘مجھے اس خدشے نے خوشی کے ساتھ زندگی نہیں گزارنے دی‘ میں ایک لمحہ بھی سکون کے ساتھ نہیں رہ سکا“۔

میں بھی اب 51 سال کا ہو چکا ہوں‘ میں خود بھی اسی صورت حال کا شکار ہوں اور ایک مکمل کنفیوز زندگی گزار رہا ہوں‘ ہمارا ملک بھی اگر جان دار ہوتا‘ یہ بھی اگر انسانوں کی طرح سانس لیتا ہوتا تو یہ بھی اس وقت ہماری طرح پریشان ہوتا‘ یہ بھی سوچ رہا ہوتا ہم نے آخر جانا کہاں ہے‘ ہماری آخر منزل کیا ہے اور مجھے یقین ہے 22 کروڑ لوگ بھی اس وقت ایسی ہی کنفیوژنزکا شکار ہوں گے۔

یہ بھی بے راہ روی میں منزلوں کا نشان تلاش کر رہے ہوں گے چناں چہ میں چاہتا ہوں ہم بھی اب شان بین کی طرح مرنے سے انکار کر دیں‘ ہم بھی اب اچھا سہی برا سہی مگر کوئی فیصلہ کر لیں‘ ہمیں جمہوریت سوٹ نہیں کرتی ہم اعلان کر دیں ملک میں اگلے تیس سال آمریت رہے گی‘ دس دس سال کے تین وقفوں سے تین جنرل آئیں گے‘ اپنی ٹیم ساتھ لائیں گے اوربس‘ یہ الیکشن اور پارلیمنٹ کی بک بک تو کم از کم ختم ہو اور ہم نے اگر جمہوریت میں جانا ہے تو پھر ہم الیکشن کے عمل کو کھلا چھوڑ دیں‘ سیاسی جماعتیں جانیں اور عوام جانیں۔

پارٹی کچھ کرے گی تو عوام ووٹ دے دیں گے ورنہ یہ سیاست دانوں کا محاصرہ کر کے انہیں فارغ کر دیں گے‘ یہ جو ہم ہر پانچ دس سال بعد میرے عزیز ہم وطنو کہتے ہیں یا قوم جنرل مشرف کو مسترد کر کے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی ہے یا پھر پورے شہر میں جنرل راحیل شریف قدم بڑھاﺅ کے بینرز لگ جاتے ہیں قوم کم از کم اس کنفیوژن سے نکل آئے‘ یہ قبلے تبدیل کرنا بند کر دے‘ ہمیں اگر احتساب چاہیے تو پھر ہم ایک ہی بار نیب کو سی بی آئی یا ایف بی آئی جیسا مضبوط ادارہ بنا دیں اور یہ کسی بھی شخص کو این آر او دے سکے اور نہ پلی بارگین کر سکے۔

یہ ملک کی ہر شخصیت کے خلاف تفتیش کر سکے اور کرپشن ثابت ہونے پر اسے سزا دے سکے اور صدر ہو‘ وزیراعظم ہو‘ چیف جسٹس ہو یا پھر آرمی چیف ہو کسی کو کسی قسم کا استثنیٰ حاصل نہ ہو‘ سب اکاﺅنٹ ایبل ہوں اور ہم نے اگر نیب کو ”میرا کرپٹ اور تیرا کرپٹ“ کی فلاسفی کے ساتھ چلانا ہے تو بھی ہم اعلان کر دیں تاکہ ہر سیاست دان کو یہ معلوم ہو یہ اقتدار سے نکل کر سیدھا جیل جائے گا اور یہ اگر یہ افورڈ کر سکتا ہے تو یہ سیاست جوائن کر لے ورنہ دوسری صورت میں کوئی باعزت کام کرے۔

بھارت ہمارا دشمن ہے یا دوست ہمیں یہ بھی ایک ہی بار طے کر لینا چاہیے‘ یہ جو ہم ہر سال دو سال بعد اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں اور پھر اچانک ہاتھ کھینچ کر اسے اپنا ازلی دشمن ڈکلیئر کر دیتے ہیں‘ یہ سلسلہ بھی اب بند ہونا چاہیے‘ یہ اگر دشمن ہے تو پھر ساری سرحدیں لاک کردیں‘ پوری قوم کو فوجی تربیت دیں اور 22 کروڑ لوگوں کو فوجی بنا کر بھارت کے سامنے کھڑا کر دیں تاکہ بھارت کو معلوم ہو سکے یہ کن لوگوں کے ساتھ ٹکرا رہا ہے۔

ہم اپنی ساری انڈسٹری کو بھی وار انڈسٹری میں تبدیل کر دیں‘ ہم صرف رائفلیں‘ توپیں اور ٹینک بنائیں اور بھارت کا اسی طرح مقابلہ کریں جس طرح شمالی کوریا یا کیوبا کر رہا ہے‘ ہم موسٹ فیورٹ اور موسٹ اینی می کی جس بک بک کا شکار ہیں یہ کم از کم اب ختم ہو جانی چاہیے۔ہم اگر چند قدم آگے بڑھا کر یہ فیصلہ بھی کر لیں ہمیں داڑھی چاہیے یا کلین شیو‘ ہم پتلون پہنیں گے یا جبہ‘ ہماری خواتین کے بال کھلے ہوں گے یا یہ عبایا لیں گے‘ ہمیں سافٹ ڈرنکس اور امریکی برگر چاہیے یا نہیں۔

ہم سیکولر قوم ہیں یا مذہبی‘ ملک میں اقلیتوں کو رہنا چاہیے یا نہیں‘ ہمیں بزنس‘ انڈسٹری اور سٹاک ایکسچینج چاہیے یا نہیں‘ ہم امریکا کے طفیلی ہیں یا نہیں‘ ہم نے امریکی کیمپ میں رہنا ہے یا روسی اور چینی کیمپ میں جانا ہے یا پھر ہم غیر جانب دار ہیں‘ ہمیں قرضے چاہئیں یا پھر ہم نے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے‘ ہمیں کشمیر چاہیے یا پھر ہم پہلے پاکستان کو بچائیں گے اور پھر ہانگ کانگ کی طرح کشمیر کی بات کریں گے‘ حکومت نے سٹاک ایکسچینج‘ سٹیٹ بینک‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں اور کھانے پینے کی اشیاءکنٹرول کرنی ہیں یا پھر انہیں مارکیٹ پر چھوڑنا ہے۔

شہروں کے کچرے‘ ٹریفک‘ بیماری‘ بے روزگاری اور جہالت سے نبٹنا حکومت کی ذمہ داری ہے یا پھر عوام کی‘ ڈیم حکومت نے بنانے ہیں یا سپریم کورٹ نے‘ حکومتیں بنانے اور گرانے کا کام عوام نے کرنا ہے یا یہ ذمہ داری نیب کے کندھوں پر استوار ہو گی‘ ہمیں پارلیمنٹ چاہیے یا پھر ملک کے فیصلے اے پی سی میں ہوں گے‘ ہم نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے یا پھر ہم اپنی دنیا خود بنائیں گے‘ ہمیں کھیل‘ فلمیں‘ کتابیں اور سٹیڈیمز چاہئیں یا نہیں چاہئیں‘ ہم نے ہسپتال بنانے ہیں یا بند کرنے ہیں۔

ہمیں میٹروز‘ انڈر پاسز اور ائیرپورٹس چاہئیں یا نہیں چاہئیں‘ ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے‘ یہ ملک اسلامی ہے یا پھر سیکولر‘ ہمیں بڑے بزنس مین‘ انڈسٹریلسٹ اور بڑے دماغ چاہئیں یا نہیں‘ ہم سیکورٹی سٹیٹ رہنا چاہتے ہیں یا پراگریسو بننا چاہتے ہیں‘ پولیس کا کام سیکورٹی ہے یا پھرجرائم کی بیخ کنی‘ فوج نے سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے یا زلزلے اور سیلاب روکنے ہیں‘ ہمیں فری میڈیا چاہیے یا اس ملک کو صحافی‘ اخبار اور ٹیلی ویژن کی کوئی ضرورت نہیں۔

یہ ملک پولیس سٹیٹ ہے یا پھر یہاں کوئی قاعدہ اور قانون بھی ہونا چاہیے‘ ہمیں یہ ملک ڈینگی‘ پولیو اور ٹی بی سے پاک چاہیے یا پھر ہمارے 80 فیصد لوگ بیماری کی حالت میں انتقال کریں گے‘ ملک میں عوام کو پانی‘ بجلی‘ گیس‘ سڑک‘ ہسپتال اور سکول حکومت نے فراہم کرنے ہیں یا پھر ہم لوگ اپنا بندوبست خود کریں گے‘ عوام کو سیکورٹی ریاست نے فراہم کرنی ہے یا پھر ہر شخص اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت خود کرے گا‘ دھرنوں کی اجازت صرف عمران خان کو دی جائے گی یا پھر مولانا فضل الرحمن بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

اور آخری بات‘ یہ ملک کس نے چلانا ہے‘ حکومت‘ اسٹیبلشمنٹ یا پھر علامہ خادم حسین رضوی نے‘ ہمیں اب یہ طے کر لینا چاہیے تاکہ آگے جائیں یا پھر پیچھے‘ ہم کہیں نہ کہیں پہنچ جائیں گے‘ یہ جو ہم جانوروں کی طرح کبھی دائیں نکل جاتے ہیں‘ کبھی بائیں اور کبھی آگے اور کبھی پیچھے دوڑنا شروع کر دیتے ہیں قوم کم از کم اس خواری سے تو بچ جائے گی‘ ہم اور ہماری نسلیں کم از کم اپنا مستقبل تو طے کر لیں گی‘ ہم میں سے جس کو یہ پیکج قبول ہے وہ یہاں رہے اور باقی چادر کندھے پر رکھ کر کسی نہ کسی طرف نکل جائیں‘ بس بات ختم۔

مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے ہم شان بین سے بھی گئے گزرے لوگ ہیں‘شان بین نے 23بار مرنے کے بعد ہی سہی لیکن اس نے کم از کم یہ فیصلہ تو کر لیا یہ اب کسی فلم‘ کسی سیریل میں مرنے کا کردار نہیں کرے گا مگر ہم 72 سال سے روزمر رہے ہیں لیکن ہم نے آج تک ”نو مور“ نہیں کہا‘ہم حالات کو قبول کر کے جانوروں جیسی زندگیاں گزار رہے ہیں‘ ہم نے اپنی تین نسلیں دلدل میں دفن کرا لیں‘ ہم اگلی دس نسلیں بھی دلدل کے کنارے پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر کنفیوژن سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں ‘ بے شک دنیا میں ہم سے بڑی بہادر قوم کوئی نہیں‘ ایک ایسی بہادر قوم جو ہر وقت مرنے کے لیے تیار رہتی ہے مگر زندہ رہنے کے لیے نہیں۔