ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

آج تم اونچی آواز سے قرآن مجید پڑھتے رہتے مدینے کے لوگ اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھ لیتے،نبی کریم ؐ نے یہ ارشاد اپنے کس صحابی ؓ سے فرمایا تھا ؟ ایمان افروز معلومات

datetime 20  مارچ‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس سے بہتر کوئی کلام نہیں ہوسکتا ۔ اللہ تعالیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔قرآن مجید کے اندر ایسی ایسی حکمتیں اور رحمتیں چھپی ہوئی ہیں جنہیں ہم اکثر محسوس نہیں کرسکتے ۔ ہم قرآن مجید کو اس طرح نہیں پڑھتے جس طرح پڑھنے کا حق ہے ۔ اگر ہم اسی طرح قرآن مجید کو پڑھیں تو اللہ تعالیٰ کی

رحمتوں کو اپنی نگاہوں سے دیکھ لیں۔ایک صحابہ کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ نبی کریمﷺ کے ایک صحابی تھے۔ وہ ایک رات تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے پاس ہی گھوڑا باندھا ہوا تھا دوسری طرف انکا چھوٹا سا بچا سویا ہوا تھا تہجد کی نماز کے اندر انہوں نے قرآن مجید کی لمبی تلاوت شروع کردی ۔ تلاوت کے اندر ایسے مگن ہوئے ان کو جب تلاوت کی لذت آتی تو دل کرتا قرآن مجید کو اونچی آواز سے پڑھیں ۔جب اونچی آواز سے پڑھتے تو ساتھ باندھا ہوا گھوڑا اچھلتا اور دل میں خوف پیدا ہوتا کہ گھوڑے کے اچھلنے کیوجہ سے کہیں بچے کو نقصان نہ پہنچ جائے ۔ جب اونچا پڑھتے لذت آتی تو خوف کی وجہ سے پھر آہستہ پڑھنے لگ جاتے تو پھر جب آہستہ پڑھتے تو قرآن مجید کی تلاوت کی ایسی لذت نہ آتی دوبارہ اونچا پڑھنا شروع کردیتے ۔ پوری رات ان کے ساتھ یہی معاملہ ہے ۔کبھی قرآن مجید کی تلاوت اونچی آواز سے کرتے اور گھوڑے کے اچھلنے کیوجہ سے پھر آہستہ پڑھنا شروع کردیتےتو تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد جب انہوں نے دعا

کیلئے ہاتھ اُٹھائے ۔تو آسمان کے طرف دیکھا کہ ستاروں کی طرح روشنیاں جو آسمان کی طرف جارہی ہیں یہ دیکھ کر بڑے حیران ہوئے یہ کیا معاملہ ہے صبح ہوئی تو آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کے سامنے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اللہ تعالیٰ

کے فرشتے تھے ۔جو تمہارا قرآن سننے کیلئے اللہ تعالیٰ کے عرش سے نیچے آئے تھے ۔آج تم اونچی آواز سے قرآن مجید پڑھتے رہتے مدینے کے لوگ اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھتے ۔ صحابہ کرام ؓ کا یہ حال تھا کہ جب وہ تلاوت کرتے تھے تو فرشتے بھی ان کی تلاوت سننے

کیلئے آتے تھے ۔صحابہ کے ساتھ کئی ایسے واقعات ہوئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ایک تو وجہ یہ تھی کہ ان کا ایمان ایسا تھا دوسری وجہ یہ تھی کہ قرآن مجید کو پڑھنے کا حق ادا کرتے تھے ۔ اگر آج ہم اسی طرح قرآن مجید پڑھیں توہم بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھ سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…