منافقین نے مدینہ سے ملحقہ بستی ذواوان میں ایک علیحدہ مسجد تعمیر کر لی۔ ان کا مقصد نماز کے بہانے اسلام کی تحریف تھا، تاکہ مسلمانوں کے اندر مسائل بازی سے تفریق پیدا کی جائے۔ یہ مقام شہر سے ایک ساعت سفر کے فاصلہ پر تھا۔ مسجد کے بانیوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ پہلی نماز آپ پڑھا کر افتتاح فرما دیجئے (غزوۂ تبوک میں روانہ ہونے سے قبل منافقین نے یہ تجویز رسول پاک کے حضور پیش
کی تھی جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی پر ملتوی فرما دیا اور اب یہ مسئلہ دوبارہ پیش ہوا) اس مسجد کی حقیقت تعمیر واضح ہو چکی تھی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جلانے کا فرمان صادر فرما دیا اور جب یہ جلا دی گئی تو منافقوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ عبداللہ ابن ابی (راس المنافقین) کے ماسوا ایسے تمام اشخاص مہر بہ لب ہو کر رہ گئے۔مسجد ضرار کے مسمار کرا دینے کے بعد یہ بدنصیب بھی دو ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔ جس دل میں مسلمانوں کے کینہ کی آگ ان کے ورود مدینہ سے سلگ رہی تھی آج وہ دل ہی نہ رہا۔ اس پر بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ابن ابی کی مذمت کرنے سے منع فرما دیا اور جب اس کے فرزند جناب عبداللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کی لاش پر نماز جنازہ ادا کرنے کی درخواست کی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی انکار نہ فرمایا اور جب تک اس کی لاش دفن نہ ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے سرہانے تشریف فرما رہے۔ عبداللہ بن ابی کی موت سے منافقت کا ستون پاش پاش ہو گیا۔ اس کے ہم زاد اسلام کی طرف بڑھے اور صدق دل سے توبہ کر کے مخلصین میں شمار ہونے لگے۔



















































