کیا آپ کو اپنے بزرگوں کی سکھائی ہوئی یہ بات یاد ہے کہ لفظ سور نہیں کہنا چاہیے، اس سے زبان ناپاک ہو جاتی ہے۔میں بھی کئی سال یہی سمجھتا رہا۔ بعد میں قرآن پاک اورترجمہ پڑھا تو انکشاف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اس جانور کا نام لے کر ذکر کیا ہے کہ یہ حرام ہے ۔ جبکہ یہ تحریر ایک مسیحی کی لکھی ہوئی پوسٹ سے لی گئی ہیں۔اس مسیح کی لکھی گئی پوسٹ کے مطابق سور کی غذا نہایت ہی گندی ہوتی ہے۔ یہ فضلہ جات کھا لیتا ہے، خراب پھل، سبزیاں، مردہ جانور اور کیڑے مکوڑے سب کچھ نگل جاتا ہے۔سور کا گوشت غذاوں میں پوشیدہ زہریلے کیمیل ایک فوم کی طرح چوستا ہے۔ اس لیے اس کا گوشت زہریلا ہوتا ہے۔دودھ پلانے والے دیگر جانوروں کی طرح سور کو پسینہ نہیں آتا۔ پسینے کا ایک مقصد جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرنا ہے۔ لہذا پسینہ نہ آنے کی وجہ سے یہ فاسد مادے سور کے جسم میں ہی رہتے ہیں۔سور کے گوشت کیڑے مکوڑے دوسرے جانوروں کے گوشت کی نسبت زیادہ جلد آ جاتے ہیں۔ سور اپنی گندی غذا کو بھی محض چار گھنٹوں میں ہضم کر لیتا ہے۔ یعنی ان کا نظام انہظام خوراک کو اچھی طرح صاف نہیں کرتا۔سور میں ایسی لگ بھگ 30 بیماریاں ہیں جو آسانی سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بائبل میں عیسائیوں کو سوروں کے پنجر تک کو چھونے سے منع کیا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
Pale Blue Dot
-
سرکاری ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا فیصلہ
-
حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کردیا، نوٹی فکیشن جاری
-
اپنا گھر بنانا اب بہت آسان ہوگیا، حکومت نے اہم قدم اٹھالیا
-
چینی کا استعمال مکمل ختم کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟تحقیق میں حیران کن انکشافات
-
عوام ہو شیا ر ہے! آندھی ، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
آسٹریلیاکا ریکارڈ ٹوٹ گیا،سعودی عرب کی دنیا کی سب سے لمبی سیدھی سڑک
-
ملک بھر میں 25 اور 26 جون کو تعطیل کا امکان
-
امریکا ایران ڈیل، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
ایک ساتھ 4 تعطیلات، سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر آگئی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
چکوال میں جاں بحق بچی کے والد کا مبینہ آڈیو بیان سامنے آگیا، کیس ہائی پروفائل ڈکلیئر
-
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ
-
بارش کا سسٹم پاکستان میں داخلے کے قریب، موسم بدلنے کا امکان



















































