جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سری لنکا میں تیل کاسنگین بحران، 26سال میں پہلی باربجلی کی طویل بندش کا اعلان

datetime 2  مارچ‬‮  2022 |

کولمبو (این این آئی)سری لنکا نے ملک بھر میں یومیہ ساڑھے 7 گھنٹے پر محیط بجلی کی بندش کا اعلان کردیا جو گزشتہ 26 سال کے عرصے میں سب سے طویل دورانیہ ہے۔ سری لنکا کو زرِ مبادلہ کے ذخائر کے شدید بحران کا سامنا ہے جس سے اب وہ تیل درآمد کرنے سے قاصر ہے۔بجلی گھروں کو تیل میسر نہ ہونے پر پبلک یوٹیلیٹیز کمیشن نے بجلی فراہمی کی حد مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے

اسے قوم کے لیے ’سیاہ دن‘ قرار دیا۔ریگولیٹری کمیشن نے کہا کہ ’ہمیں بجلی بنانے کی صلاحیت نہیں بلکہ زرِ مبادلہ کے بحران کا سامنا ہے کیوں کہ ملک کے پاس تیل درآمد کرنے کے لیے ڈالرز نہیں ہیں۔بجلی کی فراہمی میں یہ کٹوتی 1996 کے بعد سب سے طویل ہے، جب پن بجلی پر 80 فیصد انحصار کرنے والے ملک کو ذخائر سوکھ جانے کی وجہ سے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔نئی ہدایات کے تحت تمام سرکاری اداروں کو دوپہر میں اپنے ایئرکنڈینشنرز بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تا کہ بجلی بچائی جاسکے۔بس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیزل دستیاب نہیں اور 11 ہزار میں نصف بسز نہیں چلائی جارہیں البتہ منگل کے روز عام تعطیل کے باعث اس کا زیادہ اثر محسوس نہیں ہوا۔اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پرائیویٹ بس آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ ’ہمیں ڈیزل کی قلت کا زیادہ اثر کل دکھائی دے گا جب لوگ کام پر جائیں گے۔سری لنکا کو ایندھن فراہم کرنے والے سب سے بڑے ادارے لنکا آئی او سی نے تیل کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ کردیا جبکہ سرکاری کمپنی سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ انہوں نے بھی قیمت برھانے کے لیے حکومت سے بات کی ہے۔تیل کی قلت کے سبب منگل کے روز کئی پمپس بند ہوگئے اور جو کھلے تھے وہاں لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔وزیر توانائی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈالرز کے بحران کے سبسب بجلی کا بحران ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ 1948 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے اب تک کا سب سے بدترین معاشی بحران ہے۔خیال رہے کہ سری لنکا کا سیاحتی شعبہ زرمبادلہ کمانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جو کورونا وبا کے باعث تباہ ہوگیا تھا اور حکومت نے مارچ 2020 میں غیر ملکی کرنسی بچانے لیے درآمدات پر وسیع پابندیاں عائد کردی تھیں۔اس وقت سری لنکا کو معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اشیائے خورو نوش، ادویات، گاڑیوں کے پرزہ جات اور سیمنٹ کی بڑی قلت کا سامنا ہے اور سپر مارکیٹس لوگوں کو اشیائے ضروریہ بشمول چاول، چینی اور خشک دودھ کی محدود مقدار فراہم کررہے ہیں۔جنوری کے دوران سری لنکا میں اشیائے خورو نوش کی مہنگائی 25 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ مجموعی طور پر افراطِ زر کی شرح 16.8 فیصد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…