جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چین میں تجربہ گاہ سے کورونا پھیلنے کا معاملہ عالمی ادارہ صحت کی تحقیقاتی ٹیم نے بڑا اعلان کردیا

datetime 10  فروری‬‮  2021 |

ووہان(این این آئی) چین کا دورہ کرنے والی عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات ٹیم نے ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی معلومات سے آگاہ کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں دو ہفتے تک جانوروں کی مارکیٹ ، مختلف تجربہ گاہوں

اور مقامات کا دورہ کرنے کے بعد کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے سربراہ بین امبیرک کا کہنا تھا کہ ابھی تک سامنے آنے والی معلومات سے کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں ہماری موجودہ تفہیم میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی ، اس سے صرف کچھ نئی جزئیات سامنے ضرور آئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے بارے میں یہ سازشی نظریہ گردش میں رہا ہے کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں تحقیق کے لیے کئی وائرس جمع کیے جاتے ہیں اور کورونا وائرس بھی اسی تجربہ گاہ کے ذریعے جانتے بوجھتے لیک کیا گیا یا غلطی سے پھیلا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت اور چین کے ماہرین کی مشترکہ ٹیموں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ کا تفصیلی دورہ کیا ہے اور انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ وائرس کے پھیلنے کا آغاز اس تجربہ گاہ سے ہوا، ہم ایسے کسی بھی اندازے یا قیاس آرائی کے امکان کو مسترد کرتے

ہیں۔تین گھنٹے طویل پریس بریفینگ میں بین امبیرک نے کہا کہ ابھی تک کے مشاہدے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس چمگادڑ سے کسی اور جانور میں منتقل ہوا ہے اور پھر وہاں سے انسانوں میں پھیلا ہے تاہم اس کے لیے ہمیں مزید شواہد جمع کرنا ہوں گے۔چینی ماہرین

کا کہنا تھا کہ ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ سے ہٹ کے بھی وائرس کے کیسز بڑٰی تعداد میں سامنے آئے اس لیے یہ امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا یہ وائرس مارکیٹ کے بجائے کیس اور جگہ سے پھیلا ہو۔واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی دس رکنی ٹیم 14 جنوری سے ووہان کے

دورے پر ہے۔ چین کے اسی شہر سے کورونا وائرس کے متاثرین سب سے پہلے سامنے آئے تھے ، اسی لیے عالمی ادارہء صحت کے ماہرین یہاں وائرس کے ماخذ کے بارے میں تحقیقات کے لیے پہنچی۔یاد رہے کہ چین میں ووہان کی جنگلی جانوروں کی مارکیٹ میں چمگادڑوں سے اس وائرس کے پھیلنے کی غیر مصدقہ اطلاعات گردش میں رہی ہیں اور امریکا نے بھی چین کی حیاتیاتی تحقیقی اداروں پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے تھے تاہم عالمی ادارہ صحت کی ٹٰیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں اس تاثر کی نفی کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…