جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

گولن تحریک سے تعلق کاالزام 304ترک فوجی افسروں ،اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

انقرہ (این این آئی)ترکی میں حکام نے امریکا میں مقیم مبلغ علامہ فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق کے الزام میں 304 فوجی افسروں اور اہکاروں کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان فوجیوں پرگولن تحریک کے وابستگان سے روابط رکھنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک پر 2016 میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور اس کے حامیوں، کارکنان اور وابستگان کے خلاف تب سے کارروائیاں جاری ہیں۔ترک فوج کے اعلی افسروں کی قیادت میں اس ناکام بغاوت کے وقت ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔فتح اللہ گولن نے اس ناکام فوجی بغاوت سے لاتعلقی ظاہر کی تھی مگر ترک حکومت انھیں ہی تمام اتھل پتھل کا مورد الزام ٹھہراتی چلی آرہی ہے۔ترکی کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے مغربی ساحلی صوبہ ازمیر میں مشتبہ فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور پھر اس کا دائرہ کار پچاس صوبوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔گرفتارکیے گئے مشتبہ افسروں میں ترک فوج کے پانچ کرنل اور دس کپتان بھی شامل ہیں۔وہ اس وقت حاضر ڈیوٹی تھے۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ فوجی افسر گولن نیٹ ورک سے وابستہ افراد سے رابطے میں تھے۔ترکی میں ساڑھے

چار سال قبل ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے قریبا 80 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان کے خلاف صدر ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان کے علاوہ قریبا ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمین ، فوجی افسروں اور اہلکاروں کو معطل یا برطرف کیا جاچکا ہے۔گذشتہ چار سال میں صرف ترک فوج سے 20 ہزار سے زیادہ افراد کو برطرف کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…