ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں کرونا وائرس پھیلنے کی سطح خطرناک ماہرین نے سفارشات پیش کردیں

datetime 5  جولائی  2020 |

ریاض (این این آئی )ہارورڈ کے گلوبل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ اور ایڈمنڈ جے سفرا مرکز برائے اخلاقیات کی ٹیموں نے کہاہے کہ سعودی عرب میں وبا دوسرے بلند خطرے کی حامل ہے۔اس میں حکومت کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے رہ نما ہدایات دی گئی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ نقشہ ہارورڈ کے گلوبل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ اور ایڈمنڈ جے سفرا مرکز برائے اخلاقیات کی ٹیموں نے تیار کیا ۔اس میں کسی بھی

ملک میں کرونا وائرس کے روزانہ درج کیے جانے والے کیسوں کی بنیاد پر وبا کی شدت کا تعین کیا گیا ۔سعودی عرب میں کرونا وائرس کی وبا کو نارنجی خطرے کی سطح کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔یہ خطرے کا دوسرا بلند ترین زمرہ ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ نارنجی سطح والے ممالک میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا ہے یا پھیل رہا ہے۔اس میٹرکس کی بنا پر کووِڈ19پر قابو پانے کے لیے مختلف ردعملی اقدامات کی سفارش کی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ وبا کے خطرے کی سطح کے موافق اقدامات سے ہی اس پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ان ٹیموں کے فراہم کردہ اعدوشمار کے مطابق سعودی عرب نے ایک لاکھ کی آبادی میں اوسطا 111 کیسوں کی اطلاع دی ہے۔وبا کے خطرے کی اس سطح پر قابو پانے کے لیے ماہرین نے ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافے، مریض کا سراغ لگانے کے پروگراموں اور لاک ڈان کے اقدامات میں اضافے پر زوردیا ہے۔سعودی عرب نے حال ہی میں ملک بھر میں جاری کرفیو کو اٹھا لیا ہے لیکن کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کا نفاذ جاری رکھا ہوا ہے اور روزانہ کووِڈ-19 کے ہزاروں ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔سعودی عرب نے توکلنا کے نام سے ایک ایپ بھی تیار کی ہے اور اس کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کا سراغ لگایا جارہا ہے تاکہ اس وبا کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔مذکورہ دونوں اداروں کے ماہرین کے مطابق جن ممالک میں ہر ایک لاکھ افراد میں صرف ایک یا اس سے کم کیس رپورٹ کیا جارہا ہے ،وہ خطرے کی سبز سطح پر ہیں اور وہ اس وبا پر قابو پانے کے قریب ہیں۔سبز سطح کے خطرے کے حامل ممالک میں کینیڈا ، چین ، الجزائر ، اسپین اور اٹلی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…