ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کرونا مریض فٹ پاتھوں، ہسپتالوں کی راہداریوں ، ایمبولینسز میں مرنے لگے نیو یارک ٹائمز نےمودی سرکار کی ناکام پالیسیوں، ہسپتال کی خوفناک صورتحال بے نقاب کردی‎

datetime 23  جون‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن)امریکی اخبارنے بھارت میں کورونا کیسز اور صحت کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا ہے،لاک ڈاؤن بھارت میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہا ہے، بھارت کا صحت کا نظام کورونا کے تلے دب کرر ہ گیا۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے ایک مضمون میں بھارتی معیشت کاپردہ چاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پورے ہندوستان میں بے روز گاری بڑھ رہی ہے ۔

نوجوان روز گار نہ ملنے پر جرائم کی وارداتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کی اکثریت اپنا قیمتی وقت انٹرنیٹ اور فلمیں دیکھ کر ضائع کررہے ہیں ، رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے ،ڈاکٹر اور طبی عملہ خوف کا شکار ہیں ،کورونا مریضوں کے قریب کوئی جانے کو تیار نہیں جبکہ دیگر امراض میں مبتلاافراد کی بھی کوئی دیکھ بھال نہیں کی جارہی ،اکثر مریض دہائی دیتے رہتے ہیں مگرہسپتالوں نے نو لفٹ کی روش رکھی جس کی وجہ سے لوگ فٹ پاتھ، راہداریوں اور ایمبولینسز میں مرنے لگے۔رپورٹ کے مطابق غیرملکی سفارت خانوں نے بھی بھارتی ہسپتالوں کا پردہ چاک کر دیا ہے جن کے مطابق دیگر امراض کے مریضوں کو بھی ہسپتالوں میں داخلہ نہیں مل رہا۔بھارت کی معیشت بھی تیزی سے گر رہی ہے، 100 ملین افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔بھارت میں ایک حاملہ خاتون نیلم کماری کو 15 گھنٹے میں 8 ہسپتالوں نے داخلہ نہ دیا جس کے نتیجے میں 15 گھنٹے بعد نیلم کماری اور اس کے بچے نے زندگی کی بازی ہار دی۔نیلم کماری ہسپتال انتظامیہ اور عملے کی غفلت کی وجہ سے جان سے گئی۔نیویارک ٹائمز نے تحریر کیا ہے کہ نیلم کماری جیسی کتنی خواتین کشمیر اور حیدر آباد میں مررہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…