اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کا وہ براعظم جس میں کرونا وائرس خوفناک شکل اختیار کر گیا ،صرف 19دن میں مریضوں کی تعداد کہاں جا پہنچی ؟ تفصیلات نے ماہرین کے ہوش بھی اڑا کر رکھ دیئے

datetime 12  جون‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی)صحت کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ براعظم افریقہ میں وبائی مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس نے اب بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹی آبادیوں کو بھی اپنی لیپٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی افریقہ کے لیے ریجنل ڈائریکٹر متشیدیسو موتی نے کہا کہ کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے میں 98 دن لگے جب کہ مزید ایک لاکھ کا

اضافہ صرف 19 دنوں میں ہو گیا۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی تعداد کے تناسب میں وبا میں مبتلا افراد کی تعداد تین فی صد سے کم ہے، لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ یہاں اس کے پھیلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ افریقہ کے 54 ملکوں میں سے 10 کے اندر نمبروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ براعظم افریقہ میں مریضوں کی کل تعداد کا 75 فی صد صرف ان دس ملکوں میں ہے، جب کہ کل اموات میں سے 71 فی صد کا تعلق صرف پانچ ملکوں سے ہے۔صحت کے عالمی ادارے کی براعظم افریقہ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ یہاں پر سماجی فاصلے اور دوسرے احتیاطی تدابیر پر عمل شروع کر دیا گیا تھا جس سے اس کی رفتار سست کرنے میں مدد ملی۔ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں رہنے کی پابندی اور کاروبار بند کرنے سے بھاری اقتصادی نقصان ہوا، خاص طور پر ان ملکوں میں جن کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اس لیے وبا کے بچانے اور زندہ رہنے کے اسباب مہیا کرنے کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی ضروری تھا۔ڈاکٹر موتی نے کہا کہ افریقہ کو عالمی وبا سے مقابلے کے لیے کئی چیلنجرز کا سامنا ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہاں ٹیسٹنگ کٹس اور دوسرے طبی سامان کی بہت قلت ہے۔ کرونا وائرس پر توجہ مرکوز کیے جانے سے صحت کے کئی دوسرے شعبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بچوں کو مہلک وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکیسین دینے کا پروگرام خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک کرونا کی ویکسین بن نہیں جاتی، افریقہ کو اسی وبا کے ساتھ رہنا ہے اور اس دوران ایک خاص رفتار سے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا بھی سامنا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر افریقہ کو عالمی مدد اور ادویات ملتی رہیں تو وہ اس عالمی وبا کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…