جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پڑوسی ملک میں سکھوں پرمسلح افراد اور خود کش بمباروں کا حملہ ،بڑے پیمانےپر ہلاکتیں

datetime 25  مارچ‬‮  2020 |

کابل(این این آئی)افغان دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد اور خود کش بمباروں نے سکھ مذہبی کمپلیکس پر حملہ کردیاجس کے نتیجے میں 25افراد ہلاک ہو گئے جبکہ تقریباً 200 کے قریب افراد اندر پھنس گئے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے صحافیوں کو ایک پیغام میں بتایا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو بند کردیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

ادھرطالبان کے ترجمان نے ٹوئٹر پر بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔رکن پارلیمنٹ نریندر سنگھ خالصا، جو اقلیتی سکھ برادری کی نمائندگی کی کرتے ہیں، کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ صبح سویرے حملہ ہوا ہے اور ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ 3 خودکش حملہ آور دھرم شالا میں داخل ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے ایسے وقت میں حملہ کیا جب دھرم شالا عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز حملہ آوروں کے ساتھ لڑنے میں مصروف ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے کمپلیکس کی ایک منزل کو کلیئر کردیا ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے تاکہ شہریوں کی ہلاکت سے بچا جاسکے۔واضح رہے کہ 2018 میں بھی سکھ برادری پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔افغانستان کے مشرقی حصے میں قائم شہر جلال آباد میں ہونے والے اس حملے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…