منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے ٹیسٹ نتائج کا انتظار کرنے والی خاتون اپنی رہائش گاہ پر ہلاک ہو گئی 

datetime 24  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی ریاست لوویزیانا میں بظاہر صحت مند 39 سالہ خاتون ایک ایسے وقت میں ہلاک ہوگئیں جب وہ اپنے کورونا وائرس کے کرائے گئے ٹیسٹ کے نتائج کی منتظر تھیں۔ریاست لوویزیانا کے شہر نیو اورلینس کی 39 سالہ سماجی کارکن خاتون خود بھی ایک کلینک چلاتی تھیں اور وہ ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج کرتی تھیں تاہم رواں ماہ 10 مارچ کو انہیں بخار و نزلے کی شکایات ہوئیں

تو انہوں نے خود کو محدود کرلیا۔خود کو محدود کیے جانے کے باوجود ان کی طبیعت میں بہتری نہیں آئی تو انہوں نے 16 مارچ کو کورونا ٹیسٹ کروایا مگر اس کے نتائج 22 مارچ تک نہیں آئے تھے اور خاتون کو 23 مارچ کو اپنی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پایا گیا۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں ہلاک ہونے والی 39 سالہ خاتون کے بوائے فرینڈ کی فیس بک پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خاتون کی لاش ان کی اپنی رہائش گاہ پر ملی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 39 سالہ نتاشا اوٹ سماجی کارکن تھیں اور ایچ آئی وی کے مریضوں کے علاج و ٹیسٹ کا ایک کلینک چلاتی تھیں اور ان کے ذاتی کلینک میں کورونا وائرس کے مریضوں کا ٹیسٹ کرنے کیلئے محض 5 کٹس موجود تھیں مگر انہوں نے ان کٹس سے اپنا ٹیسٹ نہیں کیا تاکہ ایچ آئی وی کے مریضوں کا ٹیسٹ کیا جا سکے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر نتاشا اوٹ کو 10 مارچ کو نزلہ، زکام و بخار کی علامات ظاہر ہوئی تھیں اور مذکورہ علامات 16 مارچ تک شدید ہونے کے بعد انہوں نے ٹیسٹ کروایا جس کے نتائج 22 مارچ تک نہیں آئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نتاشا اوٹ کو ٹیسٹ کے وقت ہی بتایا گیا تھا کہ نتائج آنے میں 5 دن لگ سکتے ہیں اور اگر 5 دن میں بھی ٹیسٹ نہ آئے تو سمجھ جائیں اس میں مزید دن لگ سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بظاہر نتاشا اوٹ صحت مند تھیں اور انہیں کورونا وائرس کی شدید علامات نہیں تھیں تاہم انہیں بخار، نزلہ و زکام اور تھوڑی بہت سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں مگر 23 مارچ کو انہیں ان کی رپائش گاہ پر مردہ حالت میں پایا گیا۔بظاہر صحت مند خاتون کی اچانک ہلاکت پر جہاں ان کے قریبی رشتہ دار صدمے میں ہیں،وہیں پورے علاقے اور ریاست میں بھی یہ بحث چھڑ گئی کہ جب ان میں اتنی شدید علامات نہیں تھیں تو ان کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…