جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی زائرین کو کیوں واپس بھیجا گیا ، ایرانی سفارتخانے نے وضاحت جاری کر دی

datetime 24  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ایرانی سفارت خانے کے پریس سیکشن نے کہا ہے کہ کرونا وباء کے خلاف پاکستان اور ایران کی حکومتیں ایک دوسرے سے مل کر کام کر رہی ہیں۔اپنے بیان میں ایرانی سفارتخانے کہا کہ پاکستانی زائرین جن کے ویزے کی مدت ختم ہے /ہونے والی ہے یا جو واپس آنا چاہتے ہیں کو واپس بھیجا جاتا ہے۔ ایرانی سفارت خانہ کے مطابق ان زائرین کو ایران میں سکریننگ کے

عمل سے گزارا جاتا ہے۔ ایرانی سفارت خانہ نے کہاکہ ایران میں حکومتی سطح پر آتھورائزیڈ/با اختیار ہسپتال ان کو ہیلتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ ایرانی سفارت خانہ نے کہاکہ اس سکریننگ اور ہیلتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد وہ ایران کی سرحد پار کر سکتے ہیں۔ایرانی سفارت خانہ نے کہاکہ ان زائرین کو محفوظ حالات میں رکھنا اور گھر واپسی میں مدد فراہم کرنا پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایرانی سفارت خانہ نے کہاکہ ایرانی سفارت خانہ پاکستان میں میڈیا پر جاری ہونے والی غلط خبروں اور معلومات کو گہرائی سے دیکھ رہا ہے۔ایرانی سفارت خانہ کے مطابق میڈیا پر ہونے والا یہ منفی پراپیگنڈا نا قابل قبول ہے،پاکستانی میڈیا سے توقع ہے کہ وہ اس بحران میں حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے گا۔ ایرانی سفارت خانہ نے کہاکہ پاکستانی میڈیا بجائے دیگر قوموں کو مورد الزام ٹھرانے کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا اور اپنے عوام کی صحت کو محفوظ بنائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…