جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکا، چین اور روس دنیا کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں، جرمن صدر کا لزام

datetime 15  فروری‬‮  2020 |

میونخ (این این آئی)جرمنی کے صدر نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن، چین اور روس پر عالمی عدم اعتماد عدم تحفظ کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سالانہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین میئر نے عالمی امور میں تینوں بڑی طاقتوں کے کردار پر تنقید کی اور ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے

بغیر ان کے ‘امریکا کو دوبارہ عظیم’ بنانے کے عزم کا معاملہ اٹھایا۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ عظیم کیسے بنائیں گے اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کی قیمت پر۔سابق سوشل ڈیموکریٹ وزیر خارجہ نے ایک بار پھر جرمن رہنماؤں کی عالمی امور میں برلن کے مزید کردار ادا کرنے کی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم روس، چین اور امریکا کی خارجہ پالیسیوں کی طرز پر نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روس نے ملٹری فورس بنائی اور ایک بار پھر سیاست کے لیے سرحدوں کو پرتشدد طور پر براعظم یورپ میں منتقل کیا۔چین سے متعلق جرمن صدر نے کہاکہ بیجنگ نے بین الاقوامی قانون کے صرف مخصوص حصے کو قبول کیا جہاں وہ اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک اور قریبی اتحادی امریکا نے موجود انتظامیہ کے تحت خود ہی عالمی برادری کے خیال کو مسترد کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عدم اعتماد میں اضافہ ہوا، اسلحے کی دوڑ میں تیزی آئی اور سلامتی کو نقصان پہنچا۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ یورپ کی سیکیورٹی اور نہ جانتے ہوئے بھی کہ امریکی مفادات یورپ سے ایشیا کی طرف منتقل ہورہے ہیں، واشنگٹن سے اتحاد قائم رکھنے کے لیے جرمنی کو اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے چاہیے۔انہوں نے روس کے حوالے سے ایسی یورپی پالیسی قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس صرف بیانات کی مذمت اور پابندیوں تک محدود نہ ہو۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…