جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

انسانی ہمدردری کی اعلیٰ مثال قائم ! ابوظہبی میں مقیم پاکستانی نے بھارتی کارکن کی لاش واپس بھارت بھجوا دی،بیوہ کیلئے ہزاروں درہم بھی دئیے

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی شہری نے ایک بھارتی شہری کی لاش بھارت بھجوا کر لوگوں کے دل جیت لیے ۔ خلیج ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والا 34 سالہ چندریکا 16 جنوری کو ابو ظہبی میں دل کے دورے کے باعث انتقال کر گیا تھا۔

اس کی لاش مقامی ہسپتال میں 10 روز تک پڑی رہی کیونکہ کسی کی جانب سے لاش وطن واپس بھجوانے کا خرچہ نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔ جب یہ بات 52 سال کے پاکستانی احمد کو پتا چلی توانسانی ہمدردی کے تحت اس نے یہ نیک کام کرنے کی نیت بنا لی۔ احمد نے نہ صرف بھارتی سفارت خانے سے رابطہ کرکے چندریکا کی باقیات واپس بھجوانے کیلئے کوششیں کیں بلکہ اخراجات بھی برداشت کیے۔رحم دل احمد نے اپنی جیب سے 4200 درہم ادا کرکے لاش بھارت بھجوائی اور یہی نہیں بلکہ اس کی سوگوار بیوہ کو 2000 درہم بھی دیے۔احمد العین میں لکڑی کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا، مسلم ہونے کی حیثیت سے انسانیت کا فرض ادا کیا ہے۔ ان کا تعلق پشاور سے ہے۔احمد نے بتایا کہ انہیں 15 روز قبل پاکستان واپس آنا تھا لیکن کام کی وجہ سے انہیں ابو ظہبی میں ایک تعمیراتی کمپنی کا دورہ کرنا پڑا جہاں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ایک اسٹاف ممبر کا انتقال ہو چکا ہے جس کی لاش مقامی ہسپتال میں موجود ہے جسے تاحال وطن واپس نہیں بھیجا جا سکا۔ جس کے بعد انہوں نے بھارتی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور انتظامات کیے۔سوشل میڈیا صارفین نے ان کے اس اقدام کو خوب سراہا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…