جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جبری حجاب مخالف تین لڑکیوں کو اتنی بڑی سزا سنا دی گئی کہ سن کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

تہران (این این آئی)ایران کی ایک عدالت نے حکومت کی طرف سے نافذ کردہ حجاب سے متعلق جبری قانون کی مخالفت کرنے والی تین خواتین کو 31 سال قید کی سزا سنادی۔عرب ٹی وی کے مطابق حجاب کی مخالفت پر جیل کی سزا پانے والی سماجی کارکنوں میں یاسمین آریانی، منیرہ عرب شاہی اور موج گان کیشافارز شامل ہیں۔ ان تینوں کو ایرانی پولیس نے گذشتہ برس مارچ میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر

تہران میٹرو میں خواتین میں پھول تقسیم کرنے کے بعد حراست میں لیا تھا۔ان تینوں خواتین کے وکیل امیر رئیسیان نے ‘ٹویٹر’ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ ان کی تینوں موکلات پر فحاشی کو فروغ دینے اور ملک میں جبری حجاب کے قانون کی خلاف ورزی کر کے فساد فی الارض کی مرتکب ہونے کا قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ خواتین سے تفتیش کے دوران ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔خیال رہے کہ تہران پولیس نے گذشتہ برس بتایا تھا کہ اس نے فروری 2019ء میں تہران کی شاہرائوں پر اپنے دوپٹے سر سے اتار کر پھینکے یا انہیں لاٹھیوں پر لہرانے کے الزام میں 29 خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی نے حال ہی میں جاری کردہ ایک بیان میں ایران میں زیر حراست خواتین کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر سخت احتجاج کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…