جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جرمنی میں مقیم بھارتی شہری بھی شہریت کے فسطائی قانون پر ناراض کہاں مظاہرے کا اعلان کردیا؟مودی سرکار کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی لہر یورپ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق جرمن شہر میونخ میں پیدا ہونے والی صبورا منپریت نقشبند خود کو بھارت میں محفوظ سمجھتی تھیں، ان کو کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ان کی پیدائش بھارت میں نہیں ہوئی۔ لیکن بھارتی حکومت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے بعد

وہ اپنے اہل خانہ  کے لیے پریشان ہیں۔ نقشبند کے بقول میری ماں جنوبی بھارت کی ایک مسلمان خاتون ہیں جن کی شادی شمالی بھارت کے ایک سکھ شخص سے ہوئی۔ ستر کی دہائی میں انہوں نے معاشی تنگی کی وجہ سے جرمنی ہجرت کی۔لیکن میری دادی ابھی بھی بھارتی ریاست پانڈی چیری میں رہتی ہیں۔بھارتی حکومت نے شہریت سے متعلق جو نیا قانون منظور کیا ہے اس میں پڑوسی ممالک، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے تمام تارکین وطن کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو وہاں اقلیت میں ہیں لیکن مسلمان اس میں شامل نہیں ہیں۔  اس کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں تو احتجاجی مظاہرے جاری تھے، جرمن دارالحکومت برلن میں بھارتی شہریوں نے بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شریک نقشبند نے بتایا کہ بھارت کے کثیرالثقافتی تشخص کو فسطائیت نقصان پہنچا رہی ہے۔علاوہ ازیں برلن میں پیدا ہونے والی ایک بھارتی طالبہ کیرتی نے کہاکہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے اثرات مذہبی امتیاز سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ بھارت میں  ہندو قوم پسند حکومتی جماعت بی جے پی کے ان حالیہ اقدامات کے خلاف جرمنی کے بڑے شہر برلن، ہیمبرگ، فرینکفرٹ اور میونخ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پراتوارکو بھی برلن سمیت دیگر شہروں میں مظاہرے کیے گئے جبکہ یکم فروری کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرے کیا جائے گا۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…