جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکا کاخطے میں اپنی موجودگی کے اختتام کا آغاز ، جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب کو خطرناک نتائج سے آگاہ کردیا

datetime 5  جنوری‬‮  2020 |

تہران ،بغداد(این این آئی )ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہاہے کہ امریکا نے خطے میں اپنی موجودگی کے اختتام کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکا نے عالمی دہشتگردی کی ہے، امریکا نے انتہائی خطرناک اور بے وقوفانہ اقدام اٹھایا ہے جس کی قیمت انہیں چکانی پڑے گی۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہاہے کہ عراقیوں نے جنرل سلیمانی کی موت کا جشن منایا لیکن لاکھوں عراقیوں نے جنرل سلیمانی کے جنازے میں شرکت کر کے امریکی وزیر خارجہ کواس کا جواب دے دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایسے میں ایرانی وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہناتھا کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے امریکا نے عالمی دہشتگردی کی ہے، امریکا نے انتہائی خطرناک اور بے قوفانہ اقدام اٹھایا ہے جس کی قیمت انہیں چکانی پڑے گی۔تاہم اب انہوں نے ایک اور سوشل میڈیا بیان میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی پرحملہ کر کے امریکا نے خطے میں اپنی موجودگی کے خاتمے کا آغاز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ عراقیوں نے جنرل سلیمانی کی موت کا جشن منایا، لاکھوں عراقیوں نے جنرل سلیمانی کے جنازے میں شرکت کر کے امریکی وزیر خارجہ کو جواب دے دیا ہے۔دریں اثنادہشت گرد گروہ داعش کے خلاف برسرپیکار بین الاقوامی عسکری اتحاد میں شامل متعدد ممالک نے عراقی فورسز کی تربیت کا عمل روکنے کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ تازہ پیش رفت عراقی دارالحکومت بغداد میں ہوئے ایک امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد کشیدہ صورت حال کے تناظر میں سامنے آئی۔ بتایا گیا کہ جرمنی، ڈنمارک، ناورے اور سویڈن نے عراقی فورسز کی حربی استعداد بڑھانے کے حوالے سے جاری اپنے اپنے تربیتی پروگرام روک دیے ہیں۔ جرمن فوج کے مطابق یہ اقدام احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد وہاں تعینات جرمن فوجیوں کی سلامتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…