جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی واپسی کے دروازے بند کردئیے

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے نام نہاد جموں وکشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019کو استعمال کرتے ہوئے 37سال پرانے قانون کو ختم کردیا جس کے تحت 1947ء سے1954تک پاکستان ہجرت کرنے والے جموںوکشمیر کے باشندوں کو واپس آنے کی اجازت تھی۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جموںوکشمیر میں دوبارہ آباد ہونے یامستقل واپسی کے بارے میں 1982 ء کا ریاستی قانون ان 153ریاستی قوانین میں شامل تھا جس کو جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کے ذریعے ختم کیا گیا۔ یہ قانون یکم مارچ 1947ء سے 14مئی 1954ء تک پاکستان ہجرت کرنے والے جموںوکشمیر کے باشندوں اور ان کی اولاد کے واپس آنے کو قانونی تحفظ فراہم کرتا تھا۔ جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کو بھارتی پارلیمنٹ نے 5اگست کو آئین کی دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد منظورکیاتھا۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور ریاست کے سابق وزیر قانون عبدالرحیم راتھر نے کہاکہ جموںوکشمیر میں دوبارہ آباد ہونے یامستقل واپسی کے بارے میں 1982 ء کے ریاستی قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان سے کشمیر ی باشندوں کی واپسی کے دروازے بند ہوگئے ۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ باب بند ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…