جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عراقی فورسز حالیہ ملک گیر مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمے دار قرار

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراقی حکومت کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اکتوبر کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں شہریوں کی ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ہوئی تھیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران میں 107شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ چار سکیورٹی اہلکار بھی

مارے گئے تھے۔زیادہ تر مظاہرین سینے یا سر میں گولیاں لگنے سے ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔رپورٹ میں 3,400سے زیادہ زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔عراق کی اعلی وزارتی کمیٹی نے پرتشدد مظاہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تحقیقات کی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ منصوبہ بندی کے وزیر ڈاکٹر نوری صباح الدلیمی ہیں۔کمیٹی نے رپورٹ میں کہا کہ بعض سکیورٹی حکام نے قیادت کے پست تر معیار کیا مظاہرہ کیا تھا جس کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔اس میں بغداد میں آپریشنز کمانڈر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ دیوانیہ ، نجف ، واسط ، ذی قار ، میسان اور بغداد کے پولیس افسروں سمیت دوسرے حکام کو ان کی ذمے داریوں سے سبکدوش کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔فوج کے گیارھویں انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر کو بھی مظاہرین پر فائرنگ کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے کمانڈر کی منظوری کے بعد تحقیقات کے نتائج کو عدلیہ کو پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی نے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے دوران میں متاثرہ خاندانوں ، زخمی افراد اور سکیورٹی افسروں کے بیانات بھی قلم بند کیے تھے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں اس ماہ کے اوائل میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے شرکا پر سکیورٹی فورسز نے براہ راست گولیاں چلائی تھیں۔ ان کی کارروائیوں اور

جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو دس افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ہزاروں عراقی شہریوں نے بغداد اور دوسرے شہروں میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، شہری خدمات کے پست تر معیار اور سرکاری حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔عراقی سکیورٹی

فورسز نے اس عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا بے محابا استعمال کیا تھا۔ مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی سیاپنے انتخابی وعدے کے مطابق وسیع تراصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔اس احتجاجی تحریک کے بعد وزیراعظم نے مختلف انتظامی اور اقتصادی اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…