بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

عراقی فورسز حالیہ ملک گیر مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمے دار قرار

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراقی حکومت کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اکتوبر کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں شہریوں کی ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ہوئی تھیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران میں 107شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ چار سکیورٹی اہلکار بھی

مارے گئے تھے۔زیادہ تر مظاہرین سینے یا سر میں گولیاں لگنے سے ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔رپورٹ میں 3,400سے زیادہ زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔عراق کی اعلی وزارتی کمیٹی نے پرتشدد مظاہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تحقیقات کی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ منصوبہ بندی کے وزیر ڈاکٹر نوری صباح الدلیمی ہیں۔کمیٹی نے رپورٹ میں کہا کہ بعض سکیورٹی حکام نے قیادت کے پست تر معیار کیا مظاہرہ کیا تھا جس کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔اس میں بغداد میں آپریشنز کمانڈر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ دیوانیہ ، نجف ، واسط ، ذی قار ، میسان اور بغداد کے پولیس افسروں سمیت دوسرے حکام کو ان کی ذمے داریوں سے سبکدوش کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔فوج کے گیارھویں انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر کو بھی مظاہرین پر فائرنگ کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے کمانڈر کی منظوری کے بعد تحقیقات کے نتائج کو عدلیہ کو پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی نے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے دوران میں متاثرہ خاندانوں ، زخمی افراد اور سکیورٹی افسروں کے بیانات بھی قلم بند کیے تھے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں اس ماہ کے اوائل میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے شرکا پر سکیورٹی فورسز نے براہ راست گولیاں چلائی تھیں۔ ان کی کارروائیوں اور

جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو دس افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ہزاروں عراقی شہریوں نے بغداد اور دوسرے شہروں میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، شہری خدمات کے پست تر معیار اور سرکاری حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔عراقی سکیورٹی

فورسز نے اس عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا بے محابا استعمال کیا تھا۔ مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی سیاپنے انتخابی وعدے کے مطابق وسیع تراصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔اس احتجاجی تحریک کے بعد وزیراعظم نے مختلف انتظامی اور اقتصادی اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…