بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی نے یورپ میں مہاجرین کی نئی لہر سے خبردار کر دیا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

لیگزمبرگ / برسلز (این این آئی)جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ 2015 کی طرح ایک بار پھر مہاجرین کا انتشار پھیلا دینے والا سیلاب سامنے آ سکتا ہے جس نے یورپی یونین کو حیران و پریشان کر دیا تھا۔ ادھر یونان اور قبرص نے بھی ترکی سے آنے والوں کی تعداد میں

نئے اضافے کے حوالے سے خطرے کا بگل بجا دیا ہے۔یورپی یونین کے وزراء خارجہ ہجرت کے مسئلے پر بحث کے لیے اکٹھا ہو رہے ہیں جب کہ یونان ایک بار پھر مشرق وسطی ، ایشیا اور افریقا میں جنگوں اور غربت سے بھاگے ہوئے لوگوں کے لیے یورپ کا مرکزی دروازہ بن گیا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک 45600 افراد سمندر کے راستے ہجرت کر کے پہنچ چکے ہیں۔جرمنی کے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوور نے کہا کہ اگر ہم نے تمام ملکوں کو یورپی یونین کی بیرونی سرحد کے طور پر چھوڑ دیا (کہ وہ اپنا دفاع خود کرے) تو پھر پناہ گزینوں کے حوالے سے یورپ کی کوئی یکساں پالیسی نہیں ہو گی۔لیگزمبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہورسٹ نے مزید کہا کہ اگر پناہ گزینوں کے حوالے سے یورپ کی کوئی یکساں پالیسی نہ ہوئی تو ہمیں ایک بار پھر پورے یورپ میں قابو سے باہر ہو جانے والی ہجرت کے خطرے کا سامنا ہو گا۔ ہم پہلے یہ دیکھ چکے ہیں اور میں اس منظر نامے کو پھر سے نہیں دیکھنا چاہتا۔یورپی یونین کو اس بات کا خوف ہے کہ 2015 کا بحران دوبارہ جنم لے سکتا ہے جس نے یونین کے ممالک کے بیچ انقسام کی بیج بو دیے تھے۔ اس دوران سماجی اور سیکورٹی خدمات شدید طور پر متاثر ہوئی تھیں اور دائیں بازو کی شدت پسند جماعتوں کی حمایت میں اضافہ ہوا جو مہاجرین اور ہجرت کے خلاف تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…