بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ہزاروں پاکستانیوں کی چھْٹی ہو گئی، جانتے ہی وجہ کیا نکلی ؟

datetime 27  ستمبر‬‮  2019 |

ریاض(آن لائن) سعودی عرب میں گزشتہ دو سالوں سے سعودائزیشن پالیسی کا نفاذ ہوا ہے جس کے بعد مملکت سے لاکھوں ملازمین کو مختلف شعبوں سے نکال کر اْن کی جگہ سعودی مرد اور خواتین بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی تعلیم یافتہ افراد اور بے روزگاروں کو نوکریاں دینا ہے جن کی تعداد اس وقت لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔ایسا ہی ایک شعبہ زراعت کا ہے

جس پر ماضی میں لاکھوں غیر مْلکیوں کا راج تھاجن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد تھی۔مگر اب اس شعبے میں بھی سعودائزیشن پالیسی کا نفاذ ہو چکا ہے، جس کی زد میں ہزاروں پاکستانی بھی آئے ہیں جنہیں ملازمتوں سے فارغ کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وزارت محنت کے مطابق زرعی شعبے میں غیر مْلکیوں کی جگہ 32 ہزار 500 سعودی نوجوانوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔جس سے بے روزگاری پر قابو پانے میں بڑی مدد مِلے گی۔ اس حوالے سے وزارت محنت و سماجی بہبود نے کئی سرکاری اداروں کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کر دیئے۔جن میں وزارت ماحولیات و پانی و زراعت ، فروغ افرادی قوت فنڈ (ہدف)، کوآپریٹو ز سوسائٹی کونسل، سعودی فیڈریشن فار چیمبرز اینڈ انڈسٹریز، سعودی سوسائٹی برائے ماہی افزائش اور نیشنل واٹر کمپنی شام ہیں جو اس پروگرام میں تعاون فراہم کریں گے۔وزارت محنت کے مطابق کھیتی باڑی کے مختلف شعبوں میں 6000، آبپاشی کے شعبے میں 6500 نوجوانوں کوملازمت دی جائے گی جبکہ تعمیر و مرمت کے کام دیکھنے والے اداروں میں 2500 اور کنسلٹنٹسیوں میں 4000 ملازمتیں مہیا کی جائیں گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…