بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مسلم خواتین کیخلاف بیان،سکھ رکن پارلیمنٹ نے برطانوی وزیراعظم کی طبیعت صاف کردی

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی) برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رکن تن من جیت سنگھ نے حجاب کرنے والی مسلمان خواتین سے متعلق ’تضحیک آمیز اور نسل پرستانہ بیان دینے پر وزیر اعظم بورس جانسن سے معافی کا مطالبہ کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے رکن تن من جیت سنگھ نے بورس جانسن کے نسل پرستانہ بیان کے خلاف پرجوش تقریر کی اور کہا کہ متعصبانہ رویہ جرائم میں اضافے کا

باعث بن رہا ہے۔واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ برس اپنے ایک کالم میں کہا تھا کہ برقع ظالم کی نشانی ہے اور یہ انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے کہ لوگ (مسلم خواتین) لیٹر باکس کی طرح چلتے پھیرتے نظر آئیں۔انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ (مسلم خواتین) چہرہ چھپائے بغیر مجھ سے مخاطب ہوں اور اسکول اور یونیورسٹی بھی اسی سوچ کو اپنائے، اگر ایک طالبہ مڑ کر آپ کو دیکھے جو بینک ڈاکوؤں کی طرح لگ رہی ہو۔لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن نے تن من جیت سنگھ کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہر شخص کو یہ ناقابل یقین لمحات دیکھنے چاہیے۔برطانوی پارلیمنٹ میں تن من جیت سنگھ نے اپنے خطاب کے آغاز میں پارلیمنٹ کے اسپیکر سے کہا کہ اگر میں نے بگڑی کا انتخاب کیا تو آپ نے صلیب کو منتخب کیا، اس نے کپا پہنی اور انہوں نے حجاب یا برقع پہننے کو پسند کیا۔انہوں نے کہا کہ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں تمام معززین کو یہ حق مل گیا کہ وہ ہماری شخصیت پر توہین آمیز جملے کہیں۔برطانوی پارلیمنٹ میں تن من جیت سنگھ نے کہا کہ ہم اپنے اوائل عمری سے ٹاول ہیڈ، طالبان اور ترقی پذیر خصوصاً افریقی مملک سے آئے لوگ‘ جیسے تکلیف دہ نام سنتے آئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے سے غیر محفوظ مسلمان خواتین کے درد اور تکلیف کو بھر پور انداز میں محسوس کرسکتے ہیں جب ان کی شخصیت کو بینک ڈاکو اور لیٹر باکس سے تشبیہہ دی جائے۔

سکھ رکن نے بورس جانسن پر زور دیا کہ شرمندگی یا جھوٹی تحقیقات کے پیچھے چھپنے کے بجائے وزیراعظم آخر کب اپنے توہین آمیز اور نسل پرستانہ جملوں پر معافی مانگیں گے تن من جیب سنگھ کے بیان پراپوزیشن نشستیں تالیوں کی گونج اٹھیں۔انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کیا اور کہا کہ نسل پرستانہ بیان سے نفرت بڑھی۔سکھ رکن نے

پھر بورس جانسن سے متعلق کہا کہ آخر کب وزیراعظم اسلاموفوبیا سے متعلق تحقیقات شروع کرائیں گے؟ جس کے بارے میں انہوں نے اور ان کے چانسلر نے سرکاری ٹی وی پر وعدہ کیا تھا۔واضح رہے کہ جون میں بورس جانسن نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی تمام اقسام کے معتصبانہ رویوں کی عمومی تحقیقات کرائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…