بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پلوامہ حملے پر بھارت نے اپنی ناکامی کو تسلیم کرلیا حملے کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کوئی ان پٹ شیئر نہیں کیا انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات

datetime 4  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن )پلوامہ واقعے پر بھارتی سی پی آر ایف کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پلوامہ واقعہ انٹیلی جنس کی ناکامی کی وجہ سے ہوا تھا. بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 14فروری کو ہوئے پلوامہ واقعے پربھارتی سی پی آر ایف کی انٹرنل انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد غلطیاں پلوامہ واقعے کاسبب بنیں۔

پلوامہ واقعہ انٹیلی جنس کی بڑی ناکامی کی وجہ سے ہوا تھا.رپورٹ کے مطابق حملے سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کوئی ان پٹ شیئر نہیں کیا،پلوامہ واقعے میں نشانہ بننے والا فوجی قافلہ غیرمعمولی طور پر بڑا تھا، قافلے میں 78 گاڑیاں، 2ہزار 547 عارضی اہلکار شامل تھے.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طویل قافلہ میں انفارمیشن لیک اورشناخت کئے جانے کے مواقع زیادہ تھے،فوجی قافلے کیساتھ سڑک پر سویلین گاڑیوں کو سفر کی اجازت بھی ہلاکت خیز رہی.واضح رہے کہ 14فروری کو ہوئے پلوامہ حملے میں 40بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ بھارتی وزارتِ داخلہ نے پلوامہ حملے میں انٹیلی جنس ناکامی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا. بھارتی انٹیلی جنس ذرائع حملے کے فوری بعد اسے نااہلی قراردیا تھا پلوامہ میں نیم فوجی دستوں پر کیے جانے والا حملہ ایک سکیورٹی لیپس تھا اوراس سے بچا جاسکتا تھا. بھارت کے ایک اعلی سیکورٹی اہلکار نے برطانوی نشریاتی ادرے کو بتایا تھا کہ 12 فروری کو ملک بھر کی سیکورٹی ایجنسیوں کو شدت پسند گروپ جیش محمد کی جانب سے ایک بڑے حملے کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا.ڈی جی دل باغ سنگھ نے حملے کے فوری بعد دہلی میں قومی سلامتی کے مشیر کو بھی یہی بتایا سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ اگر سٹیٹ انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ نئی دہلی سے کیا گیا تھا تو یہ حملہ سیکورٹی کی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…