بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

شہری طیب اردوان ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے کیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ؟ ترک پارلیمنٹ رکن کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

انقرہ (این این آئی) ترکی کے ایک سرکردہ اپوزیشن رہ نما نے کہا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں شہری آزادیاں پامال ہورہی ہیں اور ہرطرف خوف اور تشدد کا راج ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ترک پارلیمنٹ کے ممبر اور ریپبلکن

پیپلز پارٹی کے خارجہ امور کے نائب صدر اونل سیکوس نے ترک صدر کی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اور ایردوآن رجیم نے مغرب کے ساتھ تعلقات خراب کردیئے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی صورتحال مزید خراب ہوئی اور داخلی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے ترکی کی وزارت داخلہ کی تین کرد میو نسپلٹیوں کے سربراہان کو برخاست کرنے پر بھی تنقید کی اور اس فیصلے کوترکی میں لاقانونیت کا ایک اور مظہرقرار دیا۔ ایک انٹرویو میں ترک اپوزیشن رہ نما مزید کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان تینوں میئروں کو ان کی پارٹی نے نامزد کیا تھا اور الیکشن کمیشن نے بغیر کسی دشواری کے ان کی درخواستوں کی منظوری دی تھی۔ انہوں نے کامیابی حاصل کی ، ان کے سرٹیفکیٹ وصول کئے جس کے بعد انہوں نے اپنے فرائض سنبھالے۔ وہ کسی بھی عدالتی عمل کے بغیر اپنے عہدوں کے چھن جا نے پر حیرت زدہ ہیں۔ اس طرح کے طرز عمل سے عوام کا ووٹ ڈالنے کا حق اور مل کر چلنے کا حق ضبط ہوجاتا ہے۔ترکی ریٹائرڈ سفارت کار نے آزادی صحافت پر لگائی جانے والی قدغنوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آج اس کے بارے میں بات کرنا مشکل ہے، کیوں کہ خوف اور جبر کے بجائے سب کچھ چلتا ہے۔ بہت سارے صحافی، ماہرین تعلیم، ادیب، رائے سازی اور سول سوسائٹی کے کارکن غیر انسانی ماحول میں قید میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…