جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جگہ جگہ فساد، پتھربازی، غلیل بازی اور پیلیٹ گن کا استعمال، بھارتی صحافی روہیت اپاردھیائے نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے جھوٹ کا پول کھول دیا،تشویشناک انکشافات

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)بھارتی صحافی روہیت اپادھیائے نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے اور مقبوضہ وادی چنار کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اندر ہی اندر سلگ رہا ہے۔صحافی روہیت اپادھیائے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرکے بھارت کے ریاستی جبر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔روہیت کے مطابق سری نگر کی در و دیوار پر‘گو انڈیا، گو بیک’،‘وی وانٹ فریڈم’،‘شیم آن انڈیا’لکھا ہوا تھا، دکانیں بند،

سڑکیں بالکل سنسان اور ہرطرف صرف فوج ہی فوج تھی۔بھارتی یوم آزادی پہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے بارے میں بھارتی صحافی نے بتایا کہ پندرہ اگست کو پوری وادی میں کہیں بھارتی پرچم نظر نہیں آیا، ٹرانسپورٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی اور ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔بھارتی صحافی نے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور فون بند ہونے کی وجہ سے جس کام کے 150 روپے لگنے تھے، اس کے 500 دینے پڑتے ہیں۔ کشمیری کہتے ہیں مودی سرکار نے ان کی روزی روٹی ختم کر دی ہے۔روہیت اپادھیائے نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزرے وقت کا ایک قصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں کیمرا لیکر نکل پڑا اور لال چوک پہنچ گیا، سب کچھ بند تھا اس لیے میں سڑک پر بچھے تار کا ایک ویڈیو بنانے لگا۔اس وقت دو-تین فوجی چلّائے اور ایک میری طرف لپکا اور بولا فوٹو نہیں کھینچنا، میں نے اپنے دفاع میں کہا کہ میں نے تو ویڈیو بنائی ہے۔فوجی نے کیمرے پر جھپٹّا مارا اور عجیب سی انگریزی میں چلّانے لگا۔ اس نے باقاعدہ تلاشی لے کر میرا کارڈ فارمیٹ کر دیا اور میں سوائے افسردہ ہونے کے اور کچھ نہیں کر سکا۔مقبوضہ وادی چنار کی صورتحال کے حوالے سے روہیت کا کہنا تھا کہ کشمیر میں کچھ بھی معمول پرنہیں ہے اور نہ ہی جلد ایسا ہونے کا امکان ہے۔وادی میں جگہ جگہ فساد ہو رہا ہے، پتھربازی، غلیل بازی ہو رہی ہے اور پیلیٹ گن کا کھلے عام استعمال ہو رہا ہے۔ آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے اور لوگوں کی جان پر بن آئی ہے،اسکول کالج صرف اخباروں اور ریڈیو پر کھل رہے ہیں۔ وادی کے باسیوں میں خوف اتنا ہے کہ کوئی کیمرے پر کچھ بولنے کو تیار نہیں ہے۔روہیت کا کہنا تھا کہ فی الحال کشمیر پر بھارتی حکومت نے فوجی بوٹ رکھ دیے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…