منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سیٹلائٹ تصاویر نے ایرانی میزائل پروگرام ایک بارپھربے نقاب کردیا

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایران رواں سال زمین کے مدار میں اپنا سیٹلائٹ بھیجنے میں دوبار ناکام ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پرکام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف امریکا نے الزام عاید کیا ہے کہ تہران سیٹلائٹ کی آڑ میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے

بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حال ہی میں ایران کے امام خمینی اسپیس سینٹر کی طرف سے نئے تیار کردہ مصنوعی سیارے کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔یہ اسپیس سینٹر ایران کے ضلع سمنان میں قائم ہے۔ ایران کی تازہ میزائل سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ایران عام طور پرمیزائل سرگرمیوں کے حوالے سے اعلانات کرتا رہا ہے مگر نئے سیٹلائٹ کے حوالے سے ایرانی حکام اب تک خاموش رہے ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار کا کہنا تھاکہ مصنوعی سیارے کو جلد ہی وزارت دفاع کے حوالے کردیا جائے گا۔ ایرانی عہدیدار نے عندیہ دیا کہ سیٹلائٹ کو جلد ہی فضاء میں بھیجا جائیگا۔امریکی دفاعی تجزیہ نگار وابین ھینز نے ایرانی میزائل اور فضائی پروگرام کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں قائم امام خمینی فضائی مرکز عام طور ایک خاموش مرکز ہے۔ ہمیں بھی اس کے ہاں تیار کردہ مصنوعی سیارے کی تصاویر کا حال ہی میں پتا چلا ہے تاہم فی الحال اس سیٹلائیٹ کے فضاء میں بھیجے جانے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی سیٹلائیٹ کی تازہ تصاویر 9 اگست کو لی گئی ہیں جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنی بیلسٹک میزائل سرگرمیوں پر تیزی کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ مصنوعی سیارے کی آڑ میں ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کوآگے بڑھا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…