بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

فنڈنگ کی آڑ میں اسرائیل کی القدس میں تفریحی پروگرامات پر ناروا پابندیاں

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)قابض صہیونی ریاست مقبوضہ بیت المقدس میں اپنی اجارہ داری اور قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے مقامی سطح پر فلسطینیوں کو کسی قسم کی تفریحی سرگرمیوں پربھی پابندیاں عاید کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ بیرونی فنڈنگ کے نام نہاد دعوے کی آڑ میں القدس میں فلسطینیوں کو کھیلوں کے انعقاد تک کی اجازت نہیں۔یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے کیونکہ گذشتہ روز اسرائیلی

پولیس کی بھاری نفری نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کی مقامی فٹ بال ٹیموں کے درمیان ہونیوالے فٹ بال مقابلے کا انعقاد روک دیا۔عرب ٹی وی کے مطابق اس تفریحی سرگرمی کا اہتمام اللقلق ٹاور آرگنائزیش کی طرف سے کیا گیا تھا اور یہ میچ اسی تنظیم کے قائم کردہ ایک گرائونڈ میں ہونا تھا۔ اسرائیلی پولیس نے کھیل کے حوالے سے لگائے گئے تعارفی پوسٹر اور بینرز اتار پھینکے اور اس کے منتظمین کو روک دیا۔اللقلق آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر منتصر ادکیدک نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس اور انٹیلی جنس حکام کی بھاری نفری نے مشرقی بیت المقدس میں تنظیم کے ہیڈ کواٹر پرچھاپہ مارا۔ انہوں نے وہاں پر لگے القدس میں ایک ڈومیسٹک فٹ بال میچ کے انعقاد کے حوالے سے بینرز اور پوسٹر اتار کر پھاڑ ڈالے۔ پولیس نے وہاں پرداخلی سلامتی کیوزیر گیلاد اردان کے دستخطوں سے ایک نیا نوٹس چسپاں کیا جس میں القدس میں اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔اگرچہ اسرائیلی حکام نے القدس میں کھیل جیسی تفریحی سرگرمی پرپابندی کی اصل وجہ بیان نہیں کی مگر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چونکہ ‘برج اللقلق’ آرگنائزیشن فلسطینی اتھارٹی کی فنڈنگ سے کام کرتی ہے۔ اسلئے اس تنظیم کے زیراہتمام کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔قبل ازیں اسی تنظیم نے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے حوالے سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں فلسطینی ماہرین قانون کو مدعو کیا گیا تھا مگر قابض صہیونی حکام نے یہ کانفرنس بھی ناکام بنا دی اور اس کے شرکاء کو وہاں سے نکال دیا تھا۔اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پرسنہ 1967ء کی چھ روز جنگ کے دوران فوجی طاقت سے قبضہ کیا۔ اب صہیونی ریاست مشرقی القدس کو بھی اپنا دارالحکومت بنانے کیلئے کوشاں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…