منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

 افغانستان: پولیس اہلکار  اپنے 7ساتھیوں کو  مار کر طالبان میں شامل ہوگیا 

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

کابل(آن لائن) افغانستان میں پولیس اہلکار نے اپنے ہی سات ساتھیوں کو فائرنگ کر کے مار ڈالا اور طالبان میں شمولیت اختیار کر لی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کی ڈسٹرکٹ شوالی کوٹ میں پیش  آیا۔

پولیس اہلکار نے سات ساتھیوں کو فائرنگ کر کے مار ڈالا۔ حملے کو خود ساختہ قرار دیئے جانے کے بعد افغانستان میں سوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں کہ  آیا پولیس اہلکار دوسروں کو کیوں مار رہے ہیں، پہلے بھی کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ افغانستان میں موجود پولیس اہلکار یا فورسز کے اہلکار نے ساتھیوں کو ہلاک کیا۔ اسی دوران غیر ملکی فورسز کے اہلکاروں کو بھی مارے جانے کے واقعات پیش  آچکے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے افغانستان کے اسی علاقے میں دو امریکی فوجیوں کو بھی افغان سکیورٹی اہلکار نے قتل کر ڈالا تھا۔قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مشتبہ ملزم ساتھی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد فرار ہو گیا ہے۔ اس داخلی حملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی نے داخلی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں ملوث اہلکار نے طالبان میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔یاد رہے کہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔  افغانستان میں پولیس اہلکار نے اپنے ہی سات ساتھیوں کو فائرنگ کر کے مار ڈالا اور طالبان میں شمولیت اختیار کر لی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کی ڈسٹرکٹ شوالی کوٹ میں پیش  آیا۔ پولیس اہلکار نے سات ساتھیوں کو فائرنگ کر کے مار ڈالا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…