منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بدقسمتی سے ہمارا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوگیا،عمر عبداللہ نے جوابی اقدام کا اعلان کردیا

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

سری نگر (این این آئی)نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کشمیر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ یک طرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔اس اقدام کے دور رس سنگین نتائج مرتب ہوں گے جو ریاست کے عوام کے خلاف جارحیت ہے جس کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں نے خبردار کیا تھا۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے خاموشی سے اس تباہ کن فیصلے کے لیے فضا ء ہموار کی، بدقسمتی سے ہمارا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوگیا جبکہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے نمائندے ہم سے جھوٹ بولتے رہے کہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں لیا جارہا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یک طرفہ، غیرقانونی اور غیر آئینی ہے اور ان کی جماعت اسے چیلنج کرے گی، ایک طویل اور مشکل لڑائی لڑنی ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔دوسری جانب  بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی آئین کو قتل کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کانگریس کے رہنما غلام نبی نے حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے آج آئین کا قتل کردیا ہے۔جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے 2 ارکان پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے اور ایم ایم فیاض نے بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی آئین کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے واک آؤٹ کرگئے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کشمیر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ یک طرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔اس اقدام کے دور رس سنگین نتائج مرتب ہوں گے جو ریاست کے عوام کے خلاف جارحیت ہے جس کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں نے خبردار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…