پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

مجھے پتہ ہے میں لوک سبھا کے انتخابات مسلمان ووٹرز کے بغیر جیت چکی ہوں ،اگر مسلمانوں نے مجھے ووٹ نہ دیئے تو پھر کیا ہوگا؟مانیکا گاندھی نے انتخاب سے قبل ہی بڑی دھمکی دیدی

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارتی کانگریسی رہنما مانیکا گاندھی نے کہا ہے کہ مجھے پتہ ہے میں لوک سبھا کے انتخابات مسلمان ووٹرز کے بغیر ہی جیت چکی ہوں تاہم میری جیت مسلمان ووٹرز کے بغیر ہوئی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ مانیکا گاندھی اترپردیش میں اپنے حلقے سلطان پور میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اندازہ ہے کہ وہ لوک سبھا کے انتخابات جیت چکی ہیں اور جیت جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سلطان پور سے مسلمان ووٹرز کے بغیر جیت جانے پر انہیں اچھا محسوس نہیں ہوگا۔مانیکا گاندھی نے کہا کہ وہ لوگوں کی مدد اور پیار سے جیت رہی ہیں، تاہم اگر ان کی جیت مسلمان ووٹرز کے بغیر ہوئی تو انہیں اچھا نہیں لگے گا۔بی جے پی رہنما نے مسلمان ووٹرز کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ان کی مدد کے بغیر جیت گئیں اور بعد میں مسلمان کسی کام کے لیے ان کے پاس ا?ئے تو پھر ان سے یہ شکایت نہ کی جائے کہ انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔مانیکا گاندھی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی مدد کے بغیر جب وہ جیت جائیں گی تو ان کا دل کھٹا ہوگا اور وہ مسلمانوں کا کوئی کام کرتے ہوئے سوچیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہیکہ ہم سب سیاستدان مہاتما گاندھی کی چھٹویں اولاد ہیں اور ہر بار ہر کسی کو دیتے جائیں گے۔مانیکا گاندھی نے جلسے کے پنڈال میں موجود تمام ووٹرز کو پیغام دیا کہ وہ ان کا پیغام ہر جگہ پھیلادیں کہ وہ مسلمان ووٹرز کے بغیر جیتنا نہیں چاہتیں اور اگر انہیں مسلمان ووٹرز ووٹ نہیں دیں گے تو وہ ان سے زیادہ مطمئن نہیں ہوں گی۔خیال رہے کہ مانیکا گاندھی کا تعلق بی جے پی کی سب سے بڑی مخالف جماعت کانگریس کے سربراہ خاندان سے ہے۔ مانیکا گاندھی سابق بھارتی خاتون وزیر اعظم اندرا گاندھی کی بہو ہیں۔مانیکا گاندھی قتل کی گئی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بڑے بیٹے سنجے گاندھی کی بیوہ ہیں۔سنجے گاندھی بھی سیاست میں تھے وہ 1980 میں چل بسے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…