پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

رافیل ڈیل تنازعہ، مودی کے گرد گھیرا تنگ،راہول گاندھی نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 7  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ رافیل طیاروں کے متنازع معاہدے اور دستاویزات کی چوری کی تحقیقات وزیراعظم نریندر مودی سے کی جائے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق راہول گاندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ رافیل طیاروں سے متعلق دستاویزات چوری ہوگئیں۔

جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دستاویزات میں جو لکھا تھا وہ درست ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ دستاویزات میں صاف لکھا کہ رافیل طیاروں کی ڈیل کے لیے نریندر مودی اور وزیراعظم آفس براہ راست بات چیت کر رہے تھے اور نریندری مودی نے اپنے دوست انیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے رافیل ڈیل کا بجٹ بڑھایا۔کانگریس کے صدر کا کہنا تھا کہ اب تو مذاکراتی ٹیم نے بھی کہا ہے کہ نریندر مودی بائی پاس سرجری کر رہے تھے اور رپورٹ کے مطابق مودی نے صاف کہا کہ کنٹریکٹ انیل امبانی کو دیا جائے۔راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا براہ راست نام سامنے آرہا ہے اس کے بارے میں بھی انکوائری کی جائے کہ پیسہ کہاں گیا، سب سچائی سامنے آ جائے گی۔راہول گاندھی نے سوال کیا کہ نریندر مودی خود تحقیقات کیوں نہیں کرا رہے، مودی کہیں کہ وہ ملک کے چوکیدار ہیں اور وہ تحقیقات کرائیں گے۔کانگریس کے صدر نے کہا کہ یہ کرپشن کا کیس ہے تو کرمنل انویسٹی گیشن کیوں نہ کی جائے، تحقیقات سب کے خلاف ہوسکتی ہے تو مودی کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتی۔یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ستمبر 2016 میں فرانسیسی حکومت کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں رافیل طیاروں کے معاہدے میں مبینہ بے ضابطگی سے متعلق زیرسماعت کیس میں حکومت نے گزشتہ روز مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاہدے کی دستاویزات وزارت دفاع کے دفتر سے چوری ہوچکی ہیں جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…