اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا میں کرنل قذافی کا مقرب خاص جنرل علی سلیمان محمد کنہ فوجی گورنر تعینات

datetime 7  فروری‬‮  2019 |

طرابلس (این این آئی)لیبیا کی سپریم قومی وفاق کونسل کے چیئرمین فائزالسراج نے مقتول سابق صدر معمر قذافی کے مقرب خاص کو جنوبی لیبیا کا فوجی گورنر تعینات کیا ہے۔ فائز السراج کے اس فیصلے کو لیبیا کے سیاسی حلقوں میں حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سپریم قومی وفاق کونسل کے چیئرمین فائز السراج نے جنرل علی سلیمان محمد کنہ کو جنوبی علاقے سبھا کے

ملٹری زون کا گورنر مقرر کیا،72 سالہ علی کنہ لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں جب کہ وہ موجودہ حکومت کے بھی مقربین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جنرل علی کنہ سیف الاسلام قذافی کو ملک کا صدر بنانے کی مہم میں پیش پیش رہنے کے ساتھ سابق نظام کے وفادار ہونے ہونے کے باعث بعض قبائل اور عوامی حلقوں میں سخت تنقید کا سامنا بھی کرچکے ہیں۔سبھا ملٹری زون کے گورنر کے عہدے پر تعینات ہونے والے قذافی کے مقرب علی کنہ الطوارق قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ قبیلہ قذافی کے دور میں فوج کے اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کی وجہ سے مشہور تھا۔ کنہ اس سے قبل سرحدی علاقے اوباری کے گورنر بھی رہ چکے ہیں اور سنہ 1987ء میں اوزو کی آزادی کی لڑائی میں شرکت کے دوران زخمی بھی ہوئے تھے۔قذافی رجی کے سقوط کے بعد علی کنہ نے اکتوبر 2016ء4 کو ملک کے جنوب میں ایک نئی فورس تشکیل دی جس میں?قذافی کے وفاداروں کوشامل کیا گیا۔ انہوں نے جنوبی لیبیا میں قیام امن، دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرحدوں کے دفاع اور ملک کی سلامتی کا علم بلند کیا اور قذافی کے حامیوں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ جون 2017ء کو زنتان جیل سے سیف الاسلام کے نکالنے میں علی کنہ کی عسکری قوت کے استعمال کا بھی شبہ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنرل علی کنہ لیبیا کی سیاسی قوتوں میں جاری محاذ آرائی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں مگر ان پر اب بھی کرنل قذافی کے وفادار ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…