اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں مقیم سکھ بزنس مینوں کا پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)برطانیہ میں مقیم سِکھ بزنس مینوں نے پاکستان میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی تیاری پکڑ لی۔ اس حوالے سے پاکستان کے ممتاز تجارتی گروپ اور برٹش سِکھ ایسوسی ایشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے ۔

دونوں فریقین کرتار پور کوریڈور کے انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ اور پاکستان میں سِکھوں کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کے سلسلے میں مِل کر کام کریں گے۔اس مفاہمی یاد داشت کے مطابق مذکورہ بالا منصوبے کے حوالے سے ایک ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا اس کے علاوہ دس سالہ ترقیاتی منصوبہ اور مارکیٹنگ سٹریٹجی بھی تشکیل دی جائے گی۔ دونوں پارٹیاں پراجیکٹ کو آگے بڑھانے، زمین کے حصول، میڈیا سے رابطے، مارکیٹنگ کی منصوبہ بندی اور فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے آپس میں بھرپور تعاون اور مِل کر کام کریں گی۔واضح رہے کہ 1522 میں سِکھوں کے پہلے گورو نانک جی نے نارووال میں واقع کرتار پور صاحب کی بنیاد رکھی۔ یہ مقام سِکھوں کے لیے انتہائی مقدس تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں گورو نانک جی نے اپنی زندگی کا آخری دور گزارا، ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہیں ان کے لیے ایک گردوارہ دربار صاحب تعمیر کیا گیا۔ سِکھ اس جگہ کی یاترا کرنے کے حوالے سے بہت حساس ہیں، کیونکہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد وہ اپنے پہلی گورو سے منسوب اس یادگار کے دیدار کرنے سے محروم ہو گئے تھے۔ برطانیہ میں مقیم سِکھ بزنس مینوں نے پاکستان میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی تیاری پکڑ لی۔ اس حوالے سے پاکستان کے ممتاز تجارتی گروپ اور برٹش سِکھ ایسوسی ایشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے ۔ دونوں فریقین کرتار پور کوریڈور کے انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ اور پاکستان میں سِکھوں کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کے سلسلے میں مِل کر کام کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…