ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

انٹرنیٹ پر دوستی اور محبت کے نام پر ہونے والے فراڈ عروج پر،انتباہ جاری، 382شکایات موصول، ہزاروں لوگ انٹر نیٹ دوستی میں لٹ گئے

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

برسلز(آئی این پی) دوستی کے نام پر ہزاروں لوگ لٹ گئے۔ بیلجیئم حکومت نے لوگوں کو خبردار کرنے کیلئے مہم شروع کردی۔گزشتہ روز بیلجیئم میں متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے ایک کمپین شروع کی گئی ہے جس میں شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر دوستی اور محبت کے نام پر ہونے والے فراڈ سے بچیں اور اپنے بٹوے کو دبا کر رکھیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیلجیئم میں کنزیومر افیئرز کے منسٹر کرس پیٹرز کے مطابق اس محبت بھرے فراڈ کے بارے میں اب تک 382 شکایات موصول ہو چکی ہیں لیکن حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق لٹنے والوں کی تعداد 10 ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔ جن سے محبت کے فراڈئیے 4 ملین یورو سے زیادہ اینٹھ کر غائب ہوگئے۔اس کمپین کے ذریعے بیلجیئم کے شہریوں کو خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ فراڈیوں کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیاہے۔جس کے مطابق انٹرنیٹ پر معصومانہ انداز سے دوستی کرکے اسے محبت کے آخری درجے تک پہنچا یا جاتا ہے ۔ اسی دوران شکار کی حیثیت کا اندازہ لگانے کے بعد اس سے رقم بھیجنے کا تقاضا کیا جاتا ہے ۔ اس کیلئے کپڑے خریدنے، بیٹی کے آپریشن، بیلجیئم میں اپنے محبوب سے ملاقات کیلئے کرایہ بھیجنے اور تھوڑی سی رقم کے عوض اپنے اثاثے بچانے جیسے بہانے تراشے جاتے ہیں۔ایک مقامی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے اب تک جو کیس سامنے آیاہے، اس میں ایک شخص نے ایک لاکھ یورو ٹرانسفر کیے جس میں 20 ہزار یورو کا قرض بھی شامل ہے۔اس کمپین میں لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی ہر محبت یا دوستی پر اعتماد نہ کریں اور اپنا بٹوہ دبا کر رکھیں۔  حکومتی اداروں کی جانب سے ایک کمپین شروع کی گئی ہے جس میں شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر دوستی اور محبت کے نام پر ہونے والے فراڈ سے بچیں اور اپنے بٹوے کو دبا کر رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…