جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ،یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ: 11 افراد ہلاک،حملہ آورزخمی حالت میں گرفتار

datetime 28  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی ریاست پینسلوینیا کے شہر پٹسبرگ میں ایک یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ سے 11 افراد ہلاک ہوگئے ۔ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکام نے بتایاکہ ٹری آف لائف سناگاگ میں اس وقت ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی جب عبادت جاری تھی۔ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔مشتبہ حملہ آور کی شناخت46 سالہ شخص

رابرٹ بوورز کے نام سے ہوئی ہے، جو زخمی حالت میں ہیں۔پولیس کے مطابق دو مزید شدید زخمیوں کا بھی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔وفاقی تفتیش کار اس واقعے کی نفرت انگیز جرم کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔ایک غیرسرکاری یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے خیال میں یہ امریکہ کی تاریخ میں یہودی برادری پر ہونے والا سب سے بڑا مہلک حملہ ہے۔پٹسبرگ کے علاقے سکوئرل ہل میں واقع یہودی عبادت گاہ میں عبادت گزار سبات کے لیے جمع تھے۔سکوئرل ہل وہ رہائشی علاقہ ہے جہاں ریاست پینسلوینیا میں سب سے زیادہ یہودی آبادی ہے اور سنیچر کے روز اس عبادت گاہ میں خاصی بھیڑ ہوتی ہے۔اطلاعات کے مطابق ایک سفید فام شخص رائفل اور دو پستولوں سے لیس عمارت میں اس وقت داخل ہوا جب سنیچر کی صبح عبادت کی جاری تھی۔جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو مسلح شخص نے عبادت گاہ کے ایک کمرے میں مورچہ بندی کر رکھی تھی۔تاہم بعد میں پٹسبرگ کے پبلک سیفٹی ڈائریکٹر وینڈیل ہسرچ نے تصدیق کی کہ مسلح شخص پولیس کی حراست میں ہے اور اس کا ہسپتال میں علاج و معالجہ کیا جا رہا ہے۔انھوں نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم انھوں نے ہلاکتوں کے بارے میں نہیں بتایا۔انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جائے وقوعہ کے منظر کو خوفناک قرار دیا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ آور نے

فائرنگ سے پہلے چیخ کر کہا تھا کہ تمام یہودی مر جائیں۔رابرٹ بوورز کی سوشل میڈیا پر بھی یہودی مخالف پوسٹس سامنے آئی ہیں۔پٹسبرگ میں واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ باب جونز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے کہ کیا پیش آنے والے واقعے سے پہلے حکام بوورز کے بارے میں جانتے تھے یا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے

کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہیں لیکن حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور تنہا تھا۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایسا بار بار ہوتے دیکھنا، اتنے برسوں سے، سراسر شرمندگی ہے۔انھوں نے مسلح شخص کو ایک جنونی قرار دیا اور کہا کہ ہمیں اپنے سزائے موت کے قوانین میں سختی لانی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کوحتمی قیمت چکانا چاہیے۔ اسے روکنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…