جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا کی 22 ریاستوں میں مفلوج کرنے والی پراسرار بیماری تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئی ،بڑی تعداد میں بچے متاثر، شدید خوف و ہراس پھیل گیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

سینٹ پال(آئی این پی) امریکا کی 22 ریاستوں میں بچوں کو مفلوج کرنے والی پراسرار بیماری تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے اب تک 127 سے زائد بچے متاثر ہوچکے ہیں، یہ بیماری پولیو سے ملتی جلتی ہے کیونکہ متاثرہ بچے میں ہلنے جلنے کی سکت نہیں رہتی اور وہ مفلوج ہوجاتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا کی 22 ریاستوں میں بچوں کو مفلوج کرنے والی پراسرار بیماری تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے اب تک 127 سے زائد بچے متاثر ہوچکے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ریاست منیوسٹا میں بچوں کو مفلوج کرنے والی پراسرار بیماری سے بچوں کے متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے، رواں برس کے 9 ماہ میں ساتواں کیس سامنے آچکا۔امریکی میڈیا کے مطابق پولیو سے مماثلث رکھنے والی بیماری کے کیسز 22 ریاستوں میں رپورٹ ہوچکے جس کی وجہ سے 127 بچے متاثر ہوئے۔منیسوٹا کے وزیر صحت نے مذکورہ وبا پھیلنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری پولیو سے ملتی جلتی ہے کیونکہ متاثرہ بچے میں ہلنے جلنے کی سکت نہیں رہتی اور وہ مفلوج ہوجاتا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق 2014 میں اس حوالے سے پہلا کیس کیلی فورنیا میں رپورٹ کیا گیا تھا، بعد ازاں اسی سال 120 متاثرہ مریض سامنے آئے اسی طرح 2016 میں بھی 149 کیسز درج ہوئے تھے۔سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق رواں سال بھی 22 ریاستوں میں 127 کیس سامنے آچکے ہیں۔طبی ماہرین نے پولیو وائرس کے خدشے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیماری ریڑھ کی ہڈی میں سوزش کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کا جسم مفلوج ہوجاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات میں ماحولیاتی تبدیلیاں سب سے اہم ہیں۔امریکی ڈاکٹرز کا یہ بھی ماننا تھا کہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والا نیل وائرس اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے مگر حال ہی میں ہونے والی تحقیق نے اس خدشے کو متاثر کردیا جو ماہرین کے لیے پریشان کن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…