جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ترک صدر کا شام اور عراق میں سلامتی اور امن کے قیام کا عزم

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

انقرہ(انٹرنیشنل ڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عراق اور ترک فورسز کے کنٹرول سے باہر شام کے علاقوں میں امن اور سلامتی کے قیام کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان علاقوں میں موجود دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کیا جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک صدر ترکی کے جنوب مشرقی صوبے موش میں 1071ء میں لڑی گئی ملازغرد کی جنگ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں تقریر کررہے تھے۔

ملازغرد کے نزدیک واقع میدان میں لڑی گئی اس جنگ میں سلجوق سلطان الپ ارسلان کی فوج نے بیزنطینی فوج کو فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا تھا اور اس کے بعد اس علاقے میں مسلمانوں کی عمل داری قائم ہوگئی تھی۔انھوں نے کہاکہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ شام میں ترکی کے کنٹرول والے علاقوں میں امن وامان قائم ہے۔ان شاء اللہ ہم شام کے دوسرے علاقوں میں بھی ایسا امن قائم کریں گے۔ہم عراق میں بھی ایسا امن قائم کریں گے، جہا ں دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں۔انھوں نے علاقائی تنازعات اور ترکی میں جاری کرنسی کے بحران کا اناطولیہ کو فتح کرنے کی ماضی کی کوششوں سے ناتا جوڑا ہے۔وہ اس سے پہلے ترک لیرہ کی قدر میں مسلسل کمی کو ایک اقتصادی جنگ قرار دے چکے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ارد گرد کے علاقے بھی بحران کی زد میں آ جائیں گے۔صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ جو لوگ ہمیں درپیش حالیہ اتھل پتھل کی عارضی وجوہ تلاش کررہے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ہمیں آج جن حملوں کا سامنا ہے،ان کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں۔انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات فراموش نہ کریں ،اناطولیہ ایک دیوار ہے۔ اگر یہ منہدم ہوگئی تو پھر مشرقِ اوسط ، افریقا ، وسط ایشیا ، بلقان یا قفقاز کچھ بھی نہیں بچے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم میں سے بعض غیر محتاط لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ( کرنسی سمیت حالیہ بحرانوں کاتعلق ) طیب ایردوآن یا آق پارٹی سے ہے۔ان کی یہ سوچ غلط ہے۔اس کا تعلق ترکی سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…