جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،امریکہ ہماراکچھ نہیں بگاڑ سکتا،ایران

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیاں لگانے کے جواب میں کہا ہے کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے جبکہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ دنیا کو زور زبردستی کر کے ایران کا تیل خریدنے سے روکے جانے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ناممکن ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے

پیغام میں انھوں نے کہا کہ جہاں تک ایران کی صورتحال کا تعلق ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ایرانی اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا واشنگٹن تہران کو تیل کی برآمد سے نہیں روک سکتا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چڑچڑے پن اور ٹویٹس کا بھی مذاق اڑایا۔جواد ظریف نے ٹویٹ میں کہا کہ چڑچڑاہٹ اور ٹویٹس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ دنیا اب امریکی سے تنگ آ چکی ہے۔ امریکی تجارت کو ختم کرنا اور ہزاروں امریکی نوکریاں ختم کرنا تو ہمیں سمجھ آتا ہے لیکن دنیا اضطراری ٹویٹس کے مطابق نہیں چلے گی۔ پوچھ لو یورپی یونین، روس، چین اور درجنوں دیگر تجارتی پارٹنرز سے۔جواد ظریف نے ایرانی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ہے کہ ایران کی تیل کی برآمدات صفر کر دی جائیں جو کہ بالکل بے معنی اورناممکن ہے۔انھوں نے کہا کہ جن ممالک کے ساتھ امریکہ اس وقت مذاکرات کر رہا ہے انھوں نے امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدتے رہیں گے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یورپی طاقتیں جن کا کہنا ہے کہ 2015 کا ایٹمی معاہدہ ٹھیک ہے وہ دیگر ممالک سے کہہ رہی ہیں کہ ایران سے تیل خریدتے رہیں اور اس وقت بھی خریدیں جب امریکہ کی جانب سے نئی پابندیاں بھی لگ جائیں۔جواد ظریف کا مزید کہنا تھا کہ یورپی طاقتیں دوسرے ممالک کو اس بات کی بھی ترغیب دے رہی ہیں کہ وہ اپنے اپنے بینکوں میں ایران سینٹرل بینک کے اکاؤنٹس کھولیں۔وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک اور ٹویٹ میں یاد دہانی، انٹرنیشنل ریلیشنز مقابلہ حسن نہیں ہے جہاں گھسے پٹے دنیا میں امن کے ڈائیلاگ ہوں۔ اور یہ پہلی بار بھی نہیں کہ جنگ کا حامی یہ دعویٰ کر رہا ہو کہ وہ جنگ دنیا میں امن کے لیے کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…