جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والی ناروے کی کشتی پکڑ لی

datetime 30  جولائی  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی کی سمندری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے یورپی امدادی کارکنان کی ایک کشتی پکڑ لی ہے۔ کشتی پر ناروے کا پرچم لہرا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ (ان امدادی کارکنان کی) سرگرمی کسی غیر معمولی واقعے کے بغیر ہی ختم ہوگئی ہے او ر اس وقت اس کشتی کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کیا جارہا ہے۔

العودہ نامی اس کشتی سے وابستہ امدادی گروپ نے کہا کہ اس پر بائیس افراد سوار تھے اور ادویہ اور طبی سامان لدا ہوا تھا۔فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے ایک بیان کے مطابق اسی گروپ کی ایک دوسری کشتی کی آیندہ چند روز میں اسی علاقے میں آمد متوقع ہے۔اس کشتی کا نام آزاد ی ہے اور اس پر سویڈش پرچم لہرا رہا ہوگا۔سکنڈ ے نیویا کے ممالک سے مئی کے وسط میں چار کشتیاں غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئی تھیں۔انھوں نے غزہ تک پہنچنے میں اٹھائیس مختلف بندرگاہوں پر قیام کیا ہے۔اس مہم میں شامل باقی دوکشتیاں پلرمو کی بندرگاہ پرقیام کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکی ہیں۔العودہ کے پکڑے جانے کے بعد فلوٹیلا اتحاد نے ایک بیان جاری کیا اور اس میں یہ کہا کہ اسرائیلی بحریہ ہمیں انتباہ جاری کررہی ہے اور وہ یہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اس نے امدادی کشتیوں کو روکنے کے لیے کسی بھی ضروری اقدام کی دھمکی دی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ درحقیقت واحد ضروری اقدام یہ ہوسکتا ہے کہ غزہ کی ناکا بندی ختم کردی جائے اور تمام فلسطینیوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی دی جائے۔اسرائیلی بحریہ نہ صرف غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کے لیے آنے والی مغربی ممالک کی کشتیاں کو پکڑلیتی ہے بلکہ وہ غزہ کی بندر گاہ سے یورپ کی طرف جانے والی کشتیوں پر بھی دھاوا بول دیتی ہے۔اس نے چند ہفتے قبل غزہ سے یورپ جانے والی ایک کشتی کو روانہ ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی پکڑ لیا تھا۔فلسطینیوں نے مئی میں بھی ایک کشتی کے ذریعے اسرائیل کی بحری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو بھی غزہ سے چند کلومیٹر دور پکڑ لیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی کشتیوں کو چھے ناٹیکل میل سے باہر نہیں جانے دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…