جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

آئرش سینیٹ میں اسرائیلی مصنوعات پر پابندی کی حمایت‘اسرائیل کی چیخیں نکل گئیں

datetime 13  جولائی  2018 |

ڈبلن (انٹرنیشنل ڈیسک)آئرش سینیٹ نے اس قانون کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار شدہ اسرائیلی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اسرائیل نے اس اقدام کی مخالفت جبکہ فلسطینیوں نے تعریف کی ہے۔اسرائیل کی جانب سے اس تجویز پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامیت پسندانہ، خطرناک اور انتہا پسندانہ اقدام قرار دیا گیا ہے۔

جبکہ فلسطینی رہنماؤں اور تنظیم آزادی فلسطین نے اسے ایک ’’مثبت اقدام‘‘ کہا ہے۔ یہ مجوزہ قانون آئرلینڈ کی ایک آزاد سینیٹر کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جبکہ برسر اقتدار جماعت کے علاوہ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔آئرش حکومت کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی قدم اٹھانے سے یورپی یونین کے اندر تجارتی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی جبکہ اس خطے میں آئرلیند کے اثر و رسوخ کو بھی نقصان پہنچے گا۔ آئرش حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبل ازیں یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک نے انفرادی سطح پر ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔ڈبلن کی سنیٹ میں یہ تجویز پیش کرنے سے پہلے اس حوالے سے شدید بحث بھی ہوئی لیکن ’کنٹرول آف اکانومک ایکٹیویٹی‘ نامی اس تجویز کی بیس کے مقابلے میں پچیس ووٹوں سے حمایت کی گئی۔ اب قانون سازی کے لیے اسے سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا جبکہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اسے قانون کا درجہ حاصل نہ ہونے دے۔یہ بل پیش کرنے والی سینیٹر فرانسس بلیک کا کہنا تھاکہ شاید ابھی ہمیں طویل راستہ طے کرنا پڑے لیکن میرے خیال میں ہم نے اس کیس کو سب پر واضح کر دیا ہے۔ اس خاتون اور موسیقار سینیٹر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری جنگی جرم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ آئرلینڈ ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے ساتھ کھڑا رہے گا۔دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن کووینی نے مشرق وسطیٰ میں جلتی کو ہوا دینے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھامیں سینیٹ اور اس کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق اس اقدام کا مشرق وسطیٰ کے لیے سفارتی عمل پر منفی اثر پڑے گا۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔



کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…