اسلام آباد (نیوز ڈیسک): قومی احتساب بیورو نے کارروائی کرتے ہوئے 250 ایکڑ قیمتی سرکاری زمین واگزار کرا لی ہے۔
نیب کے ترجمان کے مطابق ایک غیرقانونی ہاؤسنگ منصوبے نے تقریباً 750 ملین روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نجی ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق تمام دستاویزات جعلی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق جعلی ریونیو ریکارڈ، بوگس سیل ڈیڈز اور جعلی اسٹیمپس کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جبکہ 250 ایکڑ زمین کا کوئی مستند سرکاری ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔
مزید تحقیقات میں یہ بھی پتا چلا کہ زرعی زمین کو غیر زرعی ظاہر کرنے کے لیے غیر قانونی اندراجات کیے گئے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کے دستخط بھی جعلی ثابت ہوئے اور پیش کردہ ریکارڈ سرکاری دستاویزات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نیب کے مطابق ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ نے عوام سے غیر قانونی طور پر 68 ملین روپے وصول کیے اور اس مقصد کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر دو بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔















































